" عرب نیٹ" ويب سائٹ سےماخوذ ، قرآنی خبررساں ايجنسی " ايكنا" كےمطابق ، بيت المقدس میںمنعقدہ اسلام مخالف سيمينار میں ، گریٹ ولڈر نے اسلام اور مسلمانوں كے خلاف معاہدے پر دستخط كرنےكے بعد خطاب كرتے ہوئے كہا: اسلام اور مسلمانوں كا مقابلہ كرنے كے لیے یہوديوں اور عيسائيوں كو متحد ہو جانا چاہیے۔ گریٹ ولڈر نے كہا اديان كو قريب كرنے كی باتیں فضول ہیں ، میں دين اسلام كو یہوديت، عيسائيت حتی كہ بودائيت كے مقابلہ میں دين ہی نہیں سمجھتا، گریٹ ولڈر نےاپنے پست اور نازی نظريات كو بيان كرتے ہوئے كہا كہ عيسائيت و یہوديت اسلام سے بہت بہتر ہیں۔ میں تواس دن سے ڈرتا ہوں كہ كہیں ہمارے بچے اور نوجوان اس دن ہوش میں آئیں جب اسلام پورے يورپ میں پھيل چكا ہو۔ ہالينڈ كے دائیں بازو كے سياست دان نے اپنی صیہونی نوازی پر سے پردہ اٹھاتے ہوئے كہا مجھے اسرائيل پسند ہے اور پورے مشرق وسطی میں صرف اسرائيل ہی ايك جمہوری ملك ہے گریٹ ولڈر نے اسرائيل كو ايسے وقت میں ايك جمہوری ملك قرار ديا ہے كہ جب ہر روز دسيوں بچے اور خواتين اپنی سرزمين پر زندگی بسر كرنے كے جرم میں اس جمہوری ملك كے مظالم كے نشانہ بنتے ہیں۔ گریٹ ولڈر نے مسلمانوں كےسلسلہ میں اپنی حكومت پر كڑی نكتہ چينی كی اور كہا وہ لوگ جو زبردستی ہمارے اوپر اسلامی شريعت تھوپنا چاہتے ہیں، ان كے ساتھ نرم رویہ كيوں اختيار كيا جاتا ہے؟ اگر مسلمان ہالينڈ كی شہريت حاصل كرنا چاہتے ہیں تو انہیں قرآنی تعليمات اور اصولوں سے ہاتھ دھونا پڑیں گے۔ اگر مسلمان جہادی آيات كو چھوڑ دیں توان كے ساتھ رہنے كے بارے میں سوچا جا سكتا ہے۔ ياد رہے گریٹ ولڈر قرآن مخالف فلم " فتنہ" بنانے كے علاوہ بہت سی اسلام مخالف سرگرميوں میں ملوث رہے ہیں اور اسرائيل كی غاصب صیہونی حكومت كو یہوديت كی نمائندہ قرار ديتے ہے ۔ حالانكہ بہت سے معتدل یہودی حلقے اسرائيل كو یہوديت كا نمائندہ قرار دينے كو ناپسند كرتے ہیں۔
335692