بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" كی رپورٹ كے مطابق عرب آن لائن نے لكھا ہے كہ سابق برطانوی وزير اعظم ٹونی بليئر نے جرمن اخبار" دی تسایٹ" سےبات چيت كرتےہوئے كہا كہ مسلمانوں كےدينی عقائد كا فہم و ادراك ،عالمی برادری كو ان كے مسائل اور مشكلات كےحل میں مدد دے گا۔ يورپ كےانسانی حقوق كےادارےٹونی بليئر كوجنگی جرائم كامرتكب اور عراق پر غير قانونی حملوں میں شركت كی وجہ سےعالمی عدالت میں مقدمہ چلانے كا مطالبہ كر رہے ہیں۔ ايسے میں ٹونی بليئر كے بيانات تعجب آور ہیں۔ ٹونی بليئر، وزير اعظم ہاوس چھوڑنے كے بعد مشرق وسطی میں صلح كی كوششوں میں مصروف چار جانبہ عالمی كمیٹی كے نمائندہ منتخب ہوئے تو دنيا ورطہ حيرت میںپڑ گئی۔ اس چار جانیہ كمیٹی میں امريكہ، يورپی يونين ، روس اور اقوام متحدہ شامل ہیں۔
338028