بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" نے كويت كی سركاری خبررساں ايجنسی ( KUNA) سے نقل كيا ہے كہ عمرو موسی نےاپنےانٹرويو میں كہا ايران اور عرب ممالك كے مابين باقاعدہ گفتگو اورمشتركہ حكمت عملی كے نہ ہونے كی وجہ سے بيرونی طاقتوں كو مشرق وسطی میں داخل ہونے كا موقع ملا اور اس طرح ايران اور عرب ممالك كے درميان اختلافات بھی بڑھے ہیں۔ انھوں نےمزيد كہا كہ غزہ سے اسرائيلی محاصرہ كو خاتمہ اور اسرائيلی بربريت سے فلسطينيوں كی نجات كےلیے عرب ليگ كی طرف سےكئی اقدامات كیے گئے ہیں۔ عمرو موسی نےبعض عرب ممالك كے سربراہوں كی بے توجھی پر بھی شديد تنقيد كی اور تمام اسلامی ممالك سے تقاضا كيا كہ غزہ كے محاصرے كے بارے میں تمام ممالك كا ايك موقف پر اكٹھے ہونا، وقت كی سب سے اہم ضرورت ہے۔
338428