غزہ كےبحران كے خاتمہ كے لیے ايران اور عرب ممالك كے درميان گفتگوكی ضرورت

IQNA

غزہ كےبحران كے خاتمہ كے لیے ايران اور عرب ممالك كے درميان گفتگوكی ضرورت

11:32 - December 29, 2008
خبر کا کوڈ: 1724244
بين الاقوامی گروپ: عرب ليگ كےجنرل سيكرٹری عمرو موسی نے علاقائی اور بين الاقوامی مسائل كے حل اور خاص كے طور پر غزہ كی پٹی پر سے اسرائيلی محاصرہ كے خاتمہ كے لیے ايران اور عرب مماليك كے مابين گفتگو اور باہمی تعلقات كو وقت كی اہم ضرورت قرار ديا ہے۔

بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" نے كويت كی سركاری خبررساں ايجنسی ( KUNA) سے نقل كيا ہے كہ عمرو موسی نےاپنےانٹرويو میں كہا ايران اور عرب ممالك كے مابين باقاعدہ گفتگو اورمشتركہ حكمت عملی كے نہ ہونے كی وجہ سے بيرونی طاقتوں كو مشرق وسطی میں داخل ہونے كا موقع ملا اور اس طرح ايران اور عرب ممالك كے درميان اختلافات بھی بڑھے ہیں۔ انھوں نےمزيد كہا كہ غزہ سے اسرائيلی محاصرہ كو خاتمہ اور اسرائيلی بربريت سے فلسطينيوں كی نجات كےلیے عرب ليگ كی طرف سےكئی اقدامات كیے گئے ہیں۔ عمرو موسی نےبعض عرب ممالك كے سربراہوں كی بے توجھی پر بھی شديد تنقيد كی اور تمام اسلامی ممالك سے تقاضا كيا كہ غزہ كے محاصرے كے بارے میں تمام ممالك كا ايك موقف پر اكٹھے ہونا، وقت كی سب سے اہم ضرورت ہے۔
338428

نظرات بینندگان
captcha