بعض دينی شخصيات فلسطين كے بحران كو نظر انداز كر رہی ہیں

IQNA

بعض دينی شخصيات فلسطين كے بحران كو نظر انداز كر رہی ہیں

12:21 - December 31, 2008
خبر کا کوڈ: 1725526
بين الاقوامی گروپ: علماء فلسطين كے اتحاد و اتفاق میں اہم كردار ادا كر سكتے ہیں ليكن ابھی تك ان كی طرف سے كوئی ايسی كوشش ديكھنے میں نہیں آئی ہے۔
تہران میں عراقی اصلاح پسند جماعت كے صدر اور سابق وزير اعظم ابراہيم جعفری كے امور اطلاعات كے مشير جواد طالب نے بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی " ايكنا" سے بات چيت كرتے ہوئے كہا كہ غزہ كا محاصرہ نسل كشی ہے اوراس كے مقابل مصر اور سعودی عرب كی خاموشی اور اسرائيل كی حمايت معنی خيز ہے۔ انھوں نے امريكہ اور اسرائيل سےوابستہ بعض ممالك كی مذمت كرتے ہوئے كہا كہ یہ سب ممالك مل كر بھی فلسطينيوں كی ہمت اور حوصلوں سے لڑنے كی طاقت نہیں ركھتے۔ انھوں نے كہا كہ غزہ میں خوراك كی قلت كو ختم كرانے میں مصر اور خاص طور پر '' الازہر" كے علماء پر زور ديا جانا چاہیے۔ انھوں نے كہا غزہ كے محاصرہ كے جرم میں صرف اسرائيل ہی نہیں بلكہ مصر اوروہ تمام ممالك جو اسرائيل كی حمايت كر رہےہیں شريك ہیں۔ انھوں نے اس بحران پر اسلامی حكومتوں كی خاموشی كی مذمت كرتے ہوئے كہا كہ مسلم ممالك نے اپنے وظيفہ پر عمل نہ كر كے اسرائيل جيسے سفاك دشمن كو موقع ديا كہ وہ ايسی وحشيانہ كاروائياں كرے ليكن اس كے برعكس مسلمان قوم پوری دنيا میں اس غير انسانی اور غير اخلاقی عمل پر سراپہ احتجاج بنی ہوئی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے كہ مسلم حكام مصلحتوں كے شكار ہیں ۔
338805
نظرات بینندگان
captcha