(بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی" ايكنا") سعودی عرب كی سركاری خبررساں ايجنسی " SPA" كے مطابق قيروان كو سال ۲۰۰۹ء میں دنيائے اسلام كے ثقافتی دارالحكومت قرار ديئے جانے پر اسلامی ثقافت كے ادارہ كی طرف سے ايك كانفرنس كا انعقاد كيا گيا ہے جس میں دنيا بھرسے علماء اور دانشور حضرات اسلام میں گفتگو كی اہميت اور طريقہ كارپر روشنی ڈالیں گے۔ تيونس كی حكومت نے قيروان كو ثقافتی دارالحكومت قرار ديئے جانے پر شہر كی تزئين وارائيش كے لیے دو ميلين ڈالر كی رقم مخصوص كی ہے ،اس حوالے سے مختلف پروگرامز پيش كیے جائیں گے جن میں مختلف كمرشل اور دستاويزی فلموں كی نمائش ، بين الاقوامی كانفرنس اور مختلف ٹريننگ كلاسز كا اہتمام كيا گيا ہے۔ قيروان كا شمار اسلام كے قديمی ترين شہروں میں ہوتا ہے۔ قيروان دراصل ايك فارسی لفظ ہے جس كا مطلب ايسی جگہ جہاں جنگ كے دوران اسلحہ ، فوج اور لوگ جمع ہوتے ہیں۔
343725