(بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی"ايكنا") متحدہ عرب امارات كے اخبار " البيان " كے مطابق الازہر كے اسلامی تحقيقاتی مركز كی جانب سے مصر كے شہر قاہرہ میں ايك اجلاس ہوا جس میں مسلمان خواتين كی انجمن كے سوال كے جواب میں یہ فتوی صادر كيا گيا ہے كہ جواہرات اور زيورات پر قرآنی آيات كی نقاشی قرآن كے تقدس كے منافی ہے۔ اس لیے جائز نہیں ہے۔ تحقيقاتی مركز نےقرآن كی سونے سے انتہائی چھوٹے سائز میں چھپائی كو بھی حرام قرار ديتے ہوئے كہا ہے كہ بعض خواتين زينت كے لیے چھوٹے سائز كے طلائی قرآن استعمال كرتی ہیں جو شريعت كےخلاف ہے۔ مركز نے اس طرح كے كاموں كو شريعت میں ناپسنديدہ قرارديتے ہوئے كہا كہ ہمیں قرآن گلے میں پہننے كی بجائے اپنی زندگی كےلیے سر مشق بنانا چاہیے۔ دوسرے طرف قاہرہ يونيورسٹی كے اصول عقائد كے استاد نے اس فتوی كی مخالفت كی ہے اور كہا آج تك سبھی مكاتب كے علماء نے جواز كا فتوی ديا تھا ۔انھوں نے مزيد كہا كہ اس سلسلے میں كسی قسم كی ممانعت نہیںپائی جاتی بلكہ ايسے فتووں كے نتيجہ میںلوگوں كے دين سے بيزا ہونے كا خطرہ ہے۔
345854