(بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" كے مطابق بين الاقوامی كانفرس"ايران تہذيب كے آئينہ میں " سے خطاب كرتے ہوئےتہران يونيورسٹی كے پروفيسرغلام حسين ابراہيمی دينانی نےكہا كہ اس طرح كی كانفرنسوں كا انعقاد ہر ايرانی كےلیے باعث افتخار ہے كيونكہ آج بھی دنيا كے مختلف علاقوں میں ايرانی تہذيب كے آثارنماياں طورپر ديكھے جا سكتے ہیں۔ پروفيسردينانی نے كہا كہ دنيائے اسلام كےاكثر فقہا خواہ وہ حنفی ہوں يا شافعی ،حنبلی ہوں يا جعفری ايرانی رہے ہیں۔ قرآن كےبہتر فہم اورادراك كےلیے ايرانی علماء نے علم صرف و نحو كی تدوين كی جن میں سيویہ كا نام سر فہرست ہے۔ اس كے علاوہ عقلی علوم عرفان ، فلسفہ اور كلام وغيرہ میں بھی جونيی، غزالی ، اسفرائينی وغيرہ جيسے علماء كا نام ليا جا سكتا ہے۔ آخر میں انھوں نے كہا كہ اسلامی تہذيب و ثقافت میں ايران كا بہت بڑا حصہ جس كی حفاظت ہمارا اولين فريضہ ہے۔
347768