بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی " ايكنا" خبررساں ويب سائٹ " الجزيرہ نیٹ" كے مطابق اجلاس میں بعض ممالك كے صدر اور نمائندوں نے غزہ كے بحران ، اسرائيلی حملوں كےتسلسل اور سلامتی كونسل كی قرار داد ۱۸۶۰ كی مخالفت پر تبادلہ خيال كيا گيا۔ اجلاس میں غزہ كی تعمير نو كے لیے خصوصی فنڈ، غزہ كے عوام كے لیے روز مرہ ضرورت كی اشياء كی فراہمی اور اسرائيل كے ساتھ تعلقات پر پابندی جيسے موضوعات زيربحث آئے۔ اجلاس میں قطر كے امير " حمد بن خليفہ آل ثانی" لبنانی صدر " ميشل سليمان" شام كے صدر " بشارالاسد، سوڈانی صدر عمر البشير، الجزائر كے صدر عبدالعزيز بوتفليقھ، موريطانیہ كی مشاورتی كونسل كے صدر محمد ولد عبدالعزيز، عراقی نائب صدر ، " حامد عبدوسلطان" جيبوتی كے وزير اوقاف فہد بن محمود آل سعيد اور اسی طرح عمان ، ليبيا، سومالیہ، اور متحدہ عرب امارات كے نمائندوں نےاس اجلاس میں شركت كی جبكہ مصر، سعودی عرب، مراكش ، يمن ، كويت اور بحرين نے اجلاس میں شركت نہیں كی۔ امير قطر نے ان ممالك كے شركت نہ كرنے پر افسوس كا اظہار كيا اور كہا كہ غزہ اس وقت پورے عالم اسلام اور عرب كا سب سے اہم مسئلہ ہے۔ اور ايسے وقت میں كويت كے اقتصادی حالات پر كانفرنس كاانعقاد غزہ كی اہميت كو پس پشت ڈالنے كے مترادف ہے۔
348934