بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" " الجزيرہ نیٹ" سے ايك گفتگو میں مہاتير محمد نے ۲۲ روزہ جنگ میں معصوم بچوں اور خواتين كے قتل كو بين الاقوامی قوانين كی كھلی خلاف ورزی قرار ديا۔ انھوں نے كہا كہ اسرائيل كو عالمی عدالت میں حاضر ہو كر اپنی وحشيانہ اور ظالمانہ كاروائيوں كا حساب دينا ہو گا۔ مہاتير محمد نے حماس كی مزاحمت كی تعريف كرتے ہوئے كہا كہ یہ جنگ مكمل طور پر غير مساوی اور غير موزون تھی جس میں ايك طرف جديد ترين اور مہلك ترين ہتھياروں كا بے دريغ استعمال كيا جا رہا تھا۔ اور دوسری طرف غيور اور شجاع عوام خدا پر بھروسہ كیے ہوئےاور فتح پر يقين ركھتے ہوئے مزاحمت كر رہے تھے۔ انھوں نے كہا كہ وہ ہزار كوششوں كے باوجود بعض ممالك كو اسرائيل كی حمايت سے باز نہیں ركھ پائے۔ آخر میں انھوں نے تمام عرب ممالك سے اپيل كی كہ وہ اسرائيل سے ہر قسم كے سياسی اور تجارتی تعلقات ختم كریں۔
351407