بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" مصری اخبار " الاخبار'' كے مطابق اس دو روزہ كانفرنس میں الازہر يونيورسٹی كےچانسلر " احمد الطيب" اسكندریہ كتابخانہ كےانچارج اسماعيل سراج الدين اور دوسرے اسلامی دانشور حضرات نےشركت كی۔ اصلاح اور جدت كے مكاتب ، جدت اور تہذيبی چيلنجز، فكری آزادی اور استبدادی مشكلات ،حال اور مستقبل كی اصلاح اور جدت، كانفرنس كے بينادی موضوع گفتگو رہے۔ اس كے علاوہ اسلامی تہذيب كا احيا اور اس كے عالمی تہذيبوں كے ساتھ روابط اور اسلامی فقہ میں فكری جدت كے موضوع بھی زير بحث رہے۔ الازہر يونيورسٹی كے چانسلر " احمد الطيب" نےفكری جدت كو اسلام كی اساس قرار ديتے ہوئے كہا كہ اسلامی شريعت میں جدت پيدا ہو جائے تو اسلام ايك " Active SYSTEM" میں تبديل ہو سكتا ہے۔ انھوں نےكہا كہ یہ اسلامی تفكر میں جدت كی مخالفت ہی تو ہے جن كی وجہ سے اسلام مسجدوں اور دينی رسومات میں مقيد ہو كر رہ گيا ہے۔ آخر میں بعض فقہا پر اعتراض كرتے ہوئے كہا كہ اجتہاد كا دروازہ ہميشہ كھلا ہے ورنہ اسلامی تہذيب و تفكر كبھی بھی اپنے زمانے میں زندگی كے تقاضوں كےساتھ ہماہنگی پيدا نہیں كر سكتے تھے۔
351897