كروئيشيا میں اسلامی جمہوریہ ايران كے قونصل خانہ كےانچارج " سيد احسان قاضی زادہ" نے بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" سےٹيلی فونك گفتگو میں كہا ہے كہ ايران كو اسلامی انقلاب كی كاميابی كے بعد اقتصادی بائيكاٹ ، ثقافتی يلغار اور جنگ كا سامنا كرنا پڑا ہے۔ ان حالات میں ايران نے استقلال اور ثابت قدمی كا مظاہرہ كيا ہے اور اس سے ايران كی پوشيدہ صلاحيتیں سامنے آئی ہیں۔ اور ايران دنيا میں ايك بہت بڑی طاقت كے طور پر سامنے آيا ہے۔ انھوں نے مزيد كہا كہ ايران كے اسلامی انقلاب نے دنيا میں بيداری كی ايك لہر پيدا كر دی ہے۔ اور اس سےملت اسلام كو ثابت قدمی اور استقلال كا درس ملا ہے۔ قاضی زادہ نے كہا كہ انقلاب اسلامی ايران سے متاثر ہو كر ايشيا اور افريقہ كے اسلامی ممالك میں تحريكیں وجود میں آئی ہیں۔ اورعوامی طاقت ايك ناقابل انكار وجود كے طور پر دنيا كے سامنے متعارف ہوئی ہے۔ انھوں نے كہا كہ موجودہ دور جو امريكہ جيسےممالك كا دنيا پر تسلط كا دورہے اور امريكہ چاہتا ہے كہ پوری دنيا اس كے تابع ہو اقوام اور لوگوں كی خواہشات كی امريكہ كے سامنے كوئی حقيقت نہیں ہے۔ ايسے وقت میں انقلاب اسلامی ايران نے آزادی پسند قوموں كے لیے نئے افق متعارف كرائے یہی وجہ ہے كہ دنيا پر تسلط قائم كرنے والی طاقتیں اس كوشش میں ہیں كہ اسلامی انقلاب كی تكرار كسی دوسرے ملك میں نہ ہو۔ قاضی زادہ نے انقلاب اسلامی ايران كو دنيا كی حريت پسند قوموں كے لیے نمونہ قرار ديا۔ انھوں نے وضاحت كی كہ انقلاب اسلامی ايران موجودہ زمانے میں كہ جب دنيا ماديات كی فكر میں تھی " اسلام كے احياء كا سبب بنا ہے اس لیے كہ انقلاب اسلامی ايران ، اسلامی اصول پر استوار ہے۔ انھوں نے كہا كہ اس انقلاب نے مسلمانوں كو عزت بخشی ہے۔ اور اس كی كاميابی كے بعد افغانستان ، عراق، تركی، پاكستان، لبنان، فلسطين، اور بعض عربی ممالك میں تحريكیں وجود میں آئیں كہ جن كا انقلاب سے پہلے نام و نشان نہیں تھا اس سےمعلوم ہوتا ہے كہ انقلاب اسلامی ايران نے ان ممالك كےلوگوں كو اعتماد بہ نفس بخشا ہے۔ سيد احسان قاضی زادہ نے آخر میں كہا كہ كروئيشيا میں اسلامی جمہوریہ ايران كےقونصل خانہ نے ايران كے اسلامی انقلاب كی سالگرہ كی مناسبت سے متعدد پروگرام تشكيل ديئےہیں۔ جو ۴ فروری ۲۰۰۹ء كو شروع ہوئے ہیں۔ اور ۱۰ فروری ۲۰۰۹ء تك جاری رہیں گے۔
358220