بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" نے خبررساں ويب سائٹ " Islam Online" كے حوالے سے بتايا كہ یہ كاروائی اس وقت شروع ہوئی جب انسانی حقوق كے ايك ترك ادارے نے غزہ میں اسرائيلی مظالم كے خلاف درخواست دائر كی۔ درخواست میں اسرائيلی حكومت كے ۱۹ اعلی اہل كاروں كے خلاف كاروائی كی اپيل كی گئی ہے۔ ان افراد میں اسرائيلی صدر شمعون پيرز ، وزير اعظم ایہود اولمرٹ، وزير خارجہ زيپی ليونی اور وزير دفاع ایہود باری كے نام سر فہرست ہیں۔ تركی كے عدالتی قوانين كے مطابق نسل كشی اور دوسرے جنگی جرائم میں ملوث افراد خواہ وہ بيرون ملك ہی كيوں نہ ہوں ان كے خلاف كاروائی كی جا سكتی ہے۔ ياد رہے كہ ۲۲ روزہ اسرائيل فلسطين جنگ میں ۱۳۰۰ سے زائد فلسطينی جان بحق ہوئے جن میں آدھی سے زيادہ تعداد خواتين اور بچوں كی تھی۔ اس كے علاوہ پانچ ہزار افراد زخمی ہوئے اور ڈاكٹروں كے مطابق یہ زخم غيرمعمولی نوعيت كے ہے جن سے پتہ چلتا ہے كہ اسرائيل نےجنگ میں ممنوعہ اسلحہ كا استعمال كيا ہے۔
360511