بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" نے" العرب آن لائن" سائٹ كے حوالے سے رپورٹ دی ہے كہ حقوق بشر كے ادارے " HRW" نے مشرق وسطی اور شمالی افريقہ كے حقوق بشر كی انچارج " سارہ ویٹسن" نے جنيوا میں منعقد ہونے والے اقوام متحدہ كی حقوق بشر كونسل كےممبر ممالك كے اجلاس میں كہا ہے كہ سعودی عرب نے اب تك عورتوں كے حقوق ، مذہبی اور دينی آزاديوں اور مذہبی امتياز كو ختم كرنے كے حوالے سے اپنے كسی معاہدے پر عمل نہیں كيا ہے۔ اس نے سعودی عرب كی حقوق بشر كونسل كی رپورٹ پر بھی تنقيد كی ہے اور كہا ہے كہ یہ كونسل سركاری ادارہ ہے اور اس كی رپورٹ واقعيت پر مبنی نہیں ہے۔ كيونكہ سعودی عرب میں حقوق بشر كی كھلی خلاف ورزياں ہو رہی ہیں۔ سارہ نے مزيد كہا كہ سعودی عرب كی حقوق بشر كونسل نے كہا كہ اس رپورٹ كی تياری میں غير سركاری ادارے بھی موجود تھے جبكہ سعودی عرب كے مشہور قانون دانوں نے اس كا انكار كيا ہے۔ ياد رہے كہ اقوام متحدہ كی حقوق بشر كونسل كے ممبر ممالك كا اجلاس ۶فروری ۲۰۰۹ء كو جنيوا میں شروع ہوا ہے۔ اس اجلاس كے شركاء پہلی مرتبہ سعودی عرب میں حقوق بشر اور مذہبی آزاديوں كی خلاف ورزيوں كا جائزہ لیں گے۔
360221