اسكاٹ لينڈ كی پارليمنٹ میں پہلے مسلمان نمائندہ كو خراج تحسين پيش كرنے كے لیے تقريب

IQNA

اسكاٹ لينڈ كی پارليمنٹ میں پہلے مسلمان نمائندہ كو خراج تحسين پيش كرنے كے لیے تقريب

11:12 - February 14, 2009
خبر کا کوڈ: 1743831
بين الاقوامی گروپ: ۷ فروری ۲۰۰۹ء كو اسكاٹ لينڈ كی پارليمنٹ میں پہلے مسلمان نمائندہ " بشير احمد" كو خراج تحسين پيش كرنے كے لیے ايك تقريب منعقد ہوئی۔
بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" نے فرانس كی سركاری خبررساں ايجنسی "AFP" كے حوالے سے رپورٹ دی ہے كہ اسكاٹ لينڈ كے وزير اعظم اور اس ملك كی قومی جماعت كے سربراہ " الكس سالمونڈ" نے اس تقريب میں شركت كی اور كہا كہ " بشير احمد" اپنے ملك اور مذہب كے لیے ايك معتبر شخصيت ہیں۔ وہ قومی جماعت كے پہلے مسلمان ركن اور محب وطن شہری ہیں۔ بشير احمد ۲۰۰۷ء كو باقاعدہ طور پر اسكاٹ لينڈ كی نشينل جماعت كی طرف سے اسكاٹ لينڈ كی پارليمنٹ میں مسلمان ركن منتخب ہوئے۔ بشير احمد ہندوستان میں پيدا ہوئے تھے اور ۲۱ سال كی عمر تك پاكستان میں رہے پھر وہ ہجرت كر كے اسكاٹ لينڈ چلے گئے اور مسلسل كوششوں كے نتيجے میں آخر كار ۲۰۰۷ء كو اسكاٹ لينڈ كی پارليمنٹ كے ركن منتخب ہوئے۔ وہ انتخابات میں كاميابی كے بعد پاكستان كے قومی لباس میں اسكاٹ لينڈ كی پارليمنٹ میں گئے اردو زبان میں انھوں نے حلف اٹھايا۔ اور اعلان كيا كہ اسكاٹ لينڈ میں مسلمان بچوں كے لیے اسكول قائم كرنا ميرے پروگراموں میں شامل ہے ۔
361247
نظرات بینندگان
captcha