پاكستان كے ہوٹلوں اور مہمان خانوں میں الكحلی مشروبات كو ممنوع قراردے ديا گيا

IQNA

پاكستان كے ہوٹلوں اور مہمان خانوں میں الكحلی مشروبات كو ممنوع قراردے ديا گيا

16:43 - February 18, 2009
خبر کا کوڈ: 1745578
بين الاقوامی گروپ: حكومت پاكستان نے اعلان كيا ہے كہ پاكستان كےہوٹلوں اور مہمان خانوں میں غير ملكيوں كو الكحل كی مشروبات پيش نہیں كی جا سكتیں۔
بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" نے " Islam online" كے حوالے سےرپورٹ دی ہے كہ پاكستان كے وزير سياحت " مولانا عطا الرحمن" نے ايك انٹرويو میں اعلان كيا ہے كہ پاكستان ايك اسلامی ملك ہے اور ۱۹۷۳ء كے قانون كے مطابق اس ملك میں الكحل كی مشروبات كی فروخت ممنوع ہے۔ انھوں نے مزيد كہا كہ الكحلی مشروبات صرف اسلام میں ہی ممنوع نہیں ہیں بلكہ بقیہ مذاہب بھی اس كی اجازت نہیں ديتے۔ اس سےقبل پاكستان كےبعض ہوٹلوں اور دوكانوں كو اجازت تھی كہ وہ عيسائيوں ، ہندؤں اور غير ملكی سياحوں كو الكحل كی مشروبات فروخت كر سكتے تھے ليكن اس حكم كے بعد انھیں بھی یہ اجازت نہیں ہے ۔ اس حكم پر بعض اداروں نے اعتراض كيا ہے كہ اگرچہ اسلام میں شراب حرام ہے ليكن اس كے باوجود غير مسلموں كو مجبور نہیں كيا جا سكتا كہ وہ شراب نہ پئیں۔ ياد رہے كہ پاكستان كی ۱۷كروڑ آبادی میں ۹۵فيصد مسلمان ہیں۔
364044

نظرات بینندگان
captcha