ايرانی فلم فيسٹيول فجر میں آئے ہوئے عربی فنكار، فاروق عبدالغنی رزق نے بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی 'ايكنا" كے نامہ نگار سے خصوصی گفتگو میں كہا كہ موجودہ دور میں بچوں تك اپنا پيغام پہنچانے كا بہترين راستہ نامحسوس اور غير مستقيم انداز ہے۔ اس سلسلے میں اينيميشن فلمیں ،والدين كا بچوں كو كہانياں اور بالخصوص اہل بيت (ع) كے فضائل سنانا اسلام اور شيعيت كی تبليغ میں ايك اہم كردار ادا كرتے ہیں كيونكہ قصہ سننے كے دوران بچے نامحسوس طريقے سے دينی احكام اور معارف ياد كر رہے ہوتے ہیں۔ ايك سوال كے جواب میں مصری فلم نويس نجوا ابراہيم احمد جن كو بطور خاص فجر فلم فيسٹيول میں مدعو كيا گيا تھا نے كہا كہ مغرب میں اسلام مخالف فلمیں بننے كی وجہ ہماری طرف سے مضبوط اور منظم چينل كا نہ ہونا ہے جو ہر اعتبار سے ان فلموں كا مقابلہ كرنے كی صلاحيت ركھتا ہو۔
361546