بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی"ايكنا" كی رپورٹ كے مطابق مرحوم آيت اللہ ھادی معرفت نے اپنی كتاب " التمہيد فی علوم القرآن" میں قرآن كريم میں موجود غير عربی كلمات پر تجزیہ كيا ہے اور عبدالقادر جرجانی كی كتاب" اسرار البلاغہ" كے حوالے سے لكھا ہے كہ قرآن كريم عاميانہ كلام سےاعلی وارفع ہے اور كہا ہے كہ قرآن كريم كے كلمات تمام عربوں میں رائج تھے ليكن ان میں سےبعض كلمات زمانہ گزرنے كےساتھ ساتھ متروك ہو گئے اور عربی زبان سےخارج ہو گئےہیں۔ انھوں نے خطابی كی كتاب" معالم السنن " كے حوالے سے لكھا ہے كہ غير عربی كلمات كی دو قسمیں ہیں ايك وہ كہ جيسے ايك شخص اپنے وطن سےدور چلا گيا اور اپنے اہل و آداب كو بھول گيا ہو يعنی ان كلمات كے معانی قابل فہم نہیں ہیں۔ ليكن دوسری قسم كے كلمات وہ ہیںجن كے معانی غورو فكر كےبعد سمجھ میں آ جاتے ہیں۔ اور قرآن كريم میں موجود غير عربی كلمات اس دوسری قسم كی طرح ہیں يعنی ان میں اگر غورو فكر كيا جائے تو ان كے معانی واضح ہو جاتے ہیں۔ انھوں نے قرآن میں موجود بعض غير عربی كلمات كا ذكر كيا ہے عربی قبائل اور عربوں كے قرب و جوار میں رہنے والے دوسرے متمدن معاشروں سےليا گيا تھا ۔ جيسے بغياً اسے لغت تميم سےاخذ كيا گيا۔ حاق لغت قريش سےماخوذ ہے استبرق لغت ايران سے آناء و لغت ہذيل ، تبرنالغت سبا، اور الطور سريانی لغت سے اخذ كیے گئےہیں۔
326692