بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" نےمحيط سائٹ كے حوالے سے رپورٹ دی ہے كہ ناروے كے وزير قانون نے كہا كہ ناروے كی لیڈی پوليس میں مسلمان خواتين كے پردے كا مسئلہ حل ہونے والا نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے كہ اس قانون كو معطل كر ديا گيا ہے۔ ناروے كے وزير قانون نے مزيد كہا ہے كہ اس قانون كو معطل كرتے وقت مختلف لوگوں اور سياسی جماعتوں كے لیڈروں سے مشورے كیے گئےہیں۔ ياد رہے كہ ناروے كی بائیں بازو كی ميانہ رو جماعت نے ۴فروری ۲۰۰۹ء كو ناروے كی لیڈی پوليس میں مسلمان خواتين كو حجاب اسلامی كی اجازت دے دی تھی جس پر ناروے میں شديد رد عمل ديكھنے میں آيا تھا ۔ناروے میں اس قانون پر شديد احتجاج كے بعد ناروے كی حكومت نے ۱۱فروری ۲۰۰۹ء كو اعلان كيا تھا كہ وہ اس قانون پر نظر ثانی كرے گی۔
367372