بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" نے سائٹ " Islam Online" كے حوالے سے نقل كيا ہے كہ ملاوی كے صدر " بينگو و اموتاريكا" نے ۱۹۹۹ء كو عيسائی شدت پسندوں كےہاتھوں منہدم ہونے والی مساجد كی تعمير نو كا منصوبہ بنايا ہے۔ ملاوی كےمسلمانوں كی انجمن نے صدر كے اس اقدام پر خوشی كا اظہار كرتے ہوئے كہا كہ اس وقت مسلمانوں كی مساجد كی تعداد بہت كم ہے اور ان مساجد كی تعمير نو سے مسلمانوں كی عبادت كے لیے جگہ كی كمی كا مسئلہ حل ہو جائے گا۔ ملاوی كےشمالی علاقے كےعيسائی شدت پسندوں نے ۱۹۹۹ء كو اس ملك میں ڈيموكريسی كے لیے انتخابات پر ناراضگی كا اظہار كرتے ہوئے كہ جس كے نتيجہ میں ايك مسلمان صدر بن گيا تھا، اس ملك كی ۲۰۰ مساجد كو آگ لگا دی تھی۔ عيسائيت كے بعد اسلام ملاوی كا دوسرا بڑا مذہب ہے اور ايك انداز ے كے مطابق ايك كروڑ بيس لاكھ كی آبادی والے اس ملك میں ۱۲ فی صد مسلمان ہیں ليكن مسلمانوں كی اسلامی انجمن نے ۳۶ فی صد مسلمان ہونے كا اعلان كيا ہے۔
372558