بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" كی رپورٹ كے مطابق تہران میں منعقدہ اجلاس برائے حمايت فلسطين، میں تہران يونيورسٹی كےايك پروفيسر "قاسم زمانی" نے خطاب كرتے ہوئے كہا كہ اسرائيل كی طرف سےحقوق انسانی كی پامالی پر اسناد و مدارك موجود ہیں اور اس پر عدالتی كاروائی ہو سكتی ہے۔ انھوں نے كہا كہ جنگی جرائم كی رسيدگی صرف جنگ زدہ ممالك میں ہی نہیں بلكہ دوسرے ممالك میں بھی اسناد و مدارك كی بنا پر ہو سكتی ہے قاسم زمانی نے كہا كہ غزہ میں اسرائيلی جرائم كے خلاف ممكن ہے كہ عدالتیں مختلف قسم كے اقدامات كریں لہذا عالمی برادری كو اس سلسلے میں اپنے اقدامات جاری ركھنے چاہیے ۔ انھوں نے مزيد كہا كہ كيا عالمی انسانی حقوق اس بات كی اجازت ديتےہیں كہ داخلی يا عالمی عدالتیں ملزمين كی حاضری كے بعد ان كے خلاف فرد جرم عائدكر سكیں؟ اس كے جواب میں انھوںنے جنيوا معاھدے كی كئی شقوں اور دوسرے قوانين كی طرف اشارہ كرتے ہوئے ايسا كرنے كو درست قرار ديا ہے۔
372670