متحدہ عرب امارات كےعالمی اور مشہور قاری" عبدالعزيز حسين علی الحوسنی" نے بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی 'ايكنا" سے بات چيت كرتے ہوئے كہاكہ جس قاری كا بھی اسلوب یہ ہو كہ وہ تلاوت آيات الہی كے دوران اس كی تفسير كی طرف بھی متوجہ ہو تو یہ انتہائی اہم صفت ہے ۔ انھوں نے استاد مصطفی اسماعيل كو اس صفت سے متصف قرار ديا اور كہا كہ وہ دنيائے اسلام كے عظيم قاری ہیں اور ان كا نام دنيا كے مشہور قراء منشاوی اور عبدالباسط كے ساتھ آتا ہے اور ان كی تلاوت كے دوران محفل پر ايك خاص قسم كی روحانی فضا حاكم ہوتی ہے اور وہ عذاب يا رحمت كی آيات كو تلاوت كرتے وقت خاص اسلوب كا خيال ركھتےہیں۔ اماراتی قاری نے اس سوال كے جواب میں كہ تلاوت میں صرف خاص قسم كا لحن دخيل ہے يا معنا پر توجہ بھی ضروری ہے انھوں نے كہا كہ استاد اسماعيل تلاوت میں ايك قسم كے لہجہ كے ساتھ ساتھ كلام وحی كے مفہوم اور معنا پر بھی خاص توجہ كرتے ہیں۔
373715