خسرو پناہ :سائنس اور دين میں تضاد جس طرح مغربی معاشرے میں بيان ہوا ہے ويسا اسلامی تفكر میں موجود نہیں

IQNA

خسرو پناہ :سائنس اور دين میں تضاد جس طرح مغربی معاشرے میں بيان ہوا ہے ويسا اسلامی تفكر میں موجود نہیں

16:49 - March 10, 2009
خبر کا کوڈ: 1754368
فكرونظر گروپ: تاريخ تفكر مشرق اسلامی سے واضح ہوتا ہے سائنس اور دين كے درميان تضاد جس طرح يورپی معاشرے میں پايا جاتا ہے اس انداز سے مشرقی معاشرے میں نہیں تھا كيونكہ بہت سارے ايسےموارد ہیں جو دنيائے اسلام عرب میں كليسا كی طرف سے غلط موقف كی وجہ سے معرض وجود میں آئے۔

حجۃ الاسلام والمسلمين عبدالحسين خسروپناہ جو كہ اسلامی فكر و ثقافت تحقيقی سنٹر كے پروفيسر ہیں انھوں نے بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" سے بات چيت كرتے ہوئے كہا كہ سائنس اور دين كےدرميان كيا تعلق اور رابطہ ہے جب اس عنوان پر تجزیہ كيا جائے تو ماہرين بالخصوص دينی فلاسفہ كا كہنا ہے كہ سائنس اور دين كے درميان رابطہ كشف كرنے سے دينی معرفت اور شناخت میں اضافہ ہوتا ہے اور آج اس عنوان پر كئی انداز سے بحث و مذاكرات ہو رہے ہیں۔ انھوں نے مزيد كہا كہ گزشتہ صديوں میں جوان دو عناوين كےدرميان تنازع ديكھنے میں آيا ہے اس سے بحث میں بہت سنجيدگی آ گئی ہے اگر ان میں سے بہت سی ابحاث كا تعلق صرف عيسائيت اور عہدين سے ہے ليكن اس كے بعض پہلو اديان كی مشتركہ اقدار سے بھی متعلق ہیں جيسے انسان كی خلقت اور اس كے تكامل وغيرہ كی بحث خسروپناہ نے دين كی تعريف كےبارے میں كہا كہ اگرچہ اس حوالے سے كئی تعاريف سامنےآئی ہیں ليكن وہ تعريف جو ميری نظر میں بہتر ہے وہ یہ ہے كہ تعليمات كا ايسا مجموعہ جس كا منبع وحی الہی ہو اور انسانوں كی ہدايت كے لیے انبياء الہی پر نازل ہوا ہو اور خبری يا انشائی قضايا كی شكل میں دينی منابع اور مصادر میں وارد ہواہو اسے دين سے تعبير كيا جاتا ہے۔
374123

نظرات بینندگان
captcha