بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" كی رپورٹ كےمطابق قرآنی تحقيق كےمحقق سيد علی سادات فخر نے تحقيق كی اہميت اور ضرورت كے حوالے سے گفتگو كرتے ہوئے كہا كہ عصر حاضر میں پوری دنيا كےمسلمانوں كے لیے سياسی مسائل میں مشكلات اور بحران پيدا ہو چكے ہیں اور ان حالات نے مسلمانوں دانشوروں كو اس بات پر مجبور كيا ہے كہ وہ ان مسائل كا مختلف زاويوں اور گوناگوں اساليب سےتجزیہ كریں اور ان سے چھٹكارے كے لیے آسانی اور اسلامی تمدنی ميراث سے استفادہ كرتےہوئے مناسب راہ حل پيش كریں۔ اس قرآنی محقق نے عصر حاضر كےمعاشروں كو سياسی مسائل بالخصوص امت اسلامیہ كے سياسی نظام كو در پيش چيلنجز كا تذكرہ كيا اور كہا كہ قرآن كی طرف لوٹ كر آنا اور اس مقد س كتاب سے مسائل كا حل تلاش كرنا مسلمانوں كے لیے بہترين اسلوب ہے، جس سے اسلامی معاشرے كے مصائب كا مداوا اور ان كی دينوی سعادت كے لیے امت اسلامیہ كے درميان موجود كشمكش كو بھی ختم كيا جا سكتا ہے اور مسلمانوں كو ان كی اخروی سعادت اور فلاح كی طرف بھی صحيح رہنمائی كی جا سكتی ہے۔
375211