بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی " ايكنا" كی رپورٹ كےمطابق تحريك برای آزادی فلسطين " خلق" كے سربراہ نے ۹ مارچ ۲۰۰۹ء كو تہران میں ايرانی وزير خارجہ " منوچہرمتكی" سےملاقات كی۔ " منوچہرمتكی" نےاس ملاقات میں كہا كہ غزہ كی ۲۲ روزہ جنگ میں كاميابی كے بعد فلسطين كو دوبارہ زندگی ملی ہے۔ تحريك برای آزادی فلسطين " خلق" كےسربراہ " احمد جبريل" نے بھی اس ملاقات میں اظہار خيال كرتےہوئے كہا كہ ايران فلسطين كے سب سے بڑا حامی ہے۔ انھوں نے بعض عرب ممالك اور ذرائع ابلاغ كے ايران كے خلاف بيانات كا حوالہ ديتے ہوئے كہا ہے كہ اسلامی جمہوریہ ايران ابتداءہی سے فلسطين كا سب سے بڑا مدافع اور حامی رہا ہے۔
375783