ثقافت و افكار اسلامی تحقيقاتی فاؤنڈيشن كے ركن حجت الاسلام والمسلمين علی نصيری نے قرآنی خبررساں ايجنسی " ايكنا" سے امام حسن عسكری علیہ السلام سے منسوب تفسير كے متعلق گفتگو كرتے ہوئے كہا كہ آئمہ معصومين(ع) نے اكثر موارد میں تفسير تاليف كرنے سے اجتناب كيا ہے۔ انھوں نے اس كی وجہ بيان كرتے ہوئے كہا كہ تفسير تاليف كرنے كے بعد اس كے مطالب میں تحريف كا بہت زيادہ امكان ہے۔ انھوں نے كہا كہ مصحف امام علی (ع) جيسی كتابیں لوگوں كے پاس موجود نہیں بلكہ امام زمانہ (عج) كے پاس موجود ہیں۔ پس آئمہ اگرچہ معارف كا منبع تھے ليكن انھوں نے بہت بڑے خطرے كے پيش نظر براہ راست كوئی كتاب تاليف نہیں كی۔ انھوں نے كہا كہ امام حسن عسكری علیہ السلام سے منسوب تفسير كے متعلق یہ كہنا كہ یہ كتاب خود امام حسن عسكری علیہ السلام نے لكھی ہے بالكل درست نہیں ہے۔ اس تفسير كے متعلق زيادہ سے زيادہ یہ كہا جا سكتا ہے كہ طبرستان كا ايك شخص اپنے دو بیٹوں كے ساتھ سامراء میں امام كی خدمت میں حاضر ہوا۔ امام نے اس شخص كے دونوں بیٹوں كو علم تفسير سكھانے كے لیے اپنے پاس ركھ ليا۔ ان دو اشخاص نے امام (ع) سے تفسير سننے كے بعد اسے مرتب كيا۔ ان دو اشخاص كا نام علم رجال میں موجود نہیں ہے۔ حجت الاسلام نصيری نے كہا ائمہ معصومين(ع) سے منسوب كتابوں كے متعلق بعض افراد ان كے تمام مضامين كو درست قرار ديتے ہیں جبكہ بعض افراد ان كے تمام مضامين كوغيرمعتبر قرار ديتے ہیں ليكن ميری نظر میں ان كتابوں میں بعض بلند پایہ مطالب موجود ہیں تاہم بعض غير معتبر مطالب بھی نظر آتے ہیں۔
382468