جرمن عدالت میں با حجاب مسلم خاتون كا قتل، مغربی ممالك كی اسلمی دشمنی كا شاخسانہ ہے

IQNA

جرمن عدالت میں با حجاب مسلم خاتون كا قتل، مغربی ممالك كی اسلمی دشمنی كا شاخسانہ ہے

14:44 - July 14, 2009
خبر کا کوڈ: 1802013
بين الاقوامی گروپ: جرمن عدالت میں با حجاب مسلم خاتون كا قتل ، مغربی ممالك كی اسلامی دشمنی كا واضح ثبوت ہے۔
بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی 'ايكنا" كی رپورٹ كے مطابق عالمی اسلامی صلح كونسل نے جرمن عدالت میں باحجاب مسلمان خاتون كے قتل كی مذمت كرتے ہوئے كہا ہے كہ بھری عدالت میں ايك مسلمان عورت كا يوں قتل ہو جانا جب كہ پوليس بھی وہاں پر موجود تھی ايك بہت بڑا المیہ ہے۔ اورستم بالای ستم یہ ہے كہ پوليس نے نہ صرف ملزم كو كچھ نہیں كہا بلكہ مقتولہ كا شوہر جب اس كی مدد كے لئے اٹھا تو پوليس نے فائزنگ كر كے اسے بھی زخمی كر ديا۔ عالمی اسلامی صلح كونسل نے مزيد كہا ہے كہ اس وقت پوری دنيا صلح و امن كی تلاش میں ہے اور مغربی ممالك تو سب سے زيادہ امن و صلح كا راگ الاپ رہے ہیں ليكن دوسری طرف سے مختلف اديان اور ثقافتوں كو آپس میں ٹكراتے ہوئے نظر آ رہے ہیں جس كے نتيجہ میں جرمنی كی بھری عدالت میں ايك مسلمان عورت كو حجاب كی خاطر قتل كر ديا جاتا ہے اور كوئی بھی اس كی مدد كو نہیں آتا۔ كيا اس طرح كا قتل انسانی حقوق كی خلاف ورزی كے زمرے میں نہیں آتا ؟ عالمی اسلامی صلح كونسل نے اس واقعہ كی شديد مذمت كرتے ہوئے اس واقعہ كے پيچھے كارفرما تمام اسباب كی تحقيق كا مطالبہ كيا ہے۔ اور اقوام متحدہ كے انسانی حقوق كے ادارے سے كہا ہے كہ مغربی ممالك میں اسلامی دشمنی اور مسلمانوں كے حقوق كی پامالی كا سختی سے نوٹس ليا جائے۔ اسلامی كونسل نے oic سے بھی تقاضا كيا ہے كہ مسلمانوں كے حقوق خصوصاً مغربی ممالك میں بسنے والے مسلمانوں كے حقوق كی پاسداری كے لئے كوششیں كی جائیں۔ كونسل نے جرمن حكومت سے بھی مطالبہ كيا ہے كہ اس جرم كے پس پردہ تمام حقائق كو منظرعام پر لا كر ملزموں كو قرار واقعی سزا دی جائے اور مسلم كميونٹی كو مكمل تحفظ فراہم كيا جائے۔
433034
نظرات بینندگان
captcha