بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی 'ايكنا" نے "World Bulletin" كے حوالے سے رپورٹ دی ہے كہ روسی ماہرين آثار قديمہ نے كہا ہے كہ اس تاريخی مسجد كے آثار كے انكشاف سے معلوم ہوتا ہے كہ تاتارستان میں دين اسلام اس زمانے سے بہت پہلے پہنچ چكا تھا جس كا مورخين ذكر كرتے ہیں۔ روسی آثار قديمہ كے ماہرين كے اس ٹيم نے اعلان كيا ہے كہ اس مسجد كے آثار سے معلوم ہوتا ہے كہ یہ مسجد ۱۰ویں صدی عيسوی سے متعلق ہے جبكہ اس سے پہلے محققين كا خيال تھا كہ اس علاقے میں دين اسلام ۱۵ ویں صدی عيسوی میں پھيلا تھا۔ ياد رہے كہ روسی آثار قديمہ كے ماہرين نے شہر قازان میں ايك عمارت كی بنيادیں دريافت كیں ہیں جن میں سفيد رنگ كے پتھر استعمال كيا گيا ہے۔ اور ان بنيادوں كا رخ شہر مكہ میں مسلمانوں كے قبلہ كی طرف ہے۔
446640