بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" نے haberdiyarbakir كے حوالے سے نقل كيا ہے كہ تركی كے بعض مسلمان دانشوروں، صوبے كی مساجد كے ائمہ جماعت اور علماء نے اس سيمينار میں شركت كرتے ہوئے پيغمبر اسلام (ص) كی سيرت طيبہ كے بارے میں گفتگو كی۔
سيورك شہر كے ايك عالم دين "سليم آجارلار" نے اپنی گفتگو میں ماہ مبارك رمضان كی آمد كی طرف اشارہ كرتے ہوئے كہا كہ كلام الہی كو سمجھنے والوں كے لیے یہ مہينہ ايك سنہرا موقع ہے۔ قرآن انسانوں كی ہدايت كی كتاب ہے اور ہمیں اس سے بھر پور استفادہ كرنا چاہیے۔
انہوں نے اپنے خطاب كے دوسرے حصے میں كہا كہ حضرت محمد(ص) كی معرفت دو طريقوں سے حاصل كی جا سكتی ہے۔ پہلا طريقہ یہ ہے كہ قرآن كريم نے پيغمبر اكرم (ص) كے بارے میں جو كچھ فرمايا ہے اس میں غوروخوض كریں اور دوسرا طريقہ آنحضرت (ص) كی حيات طيبہ كے بارے میں لكھی جانے والی معتبر كتابوں كا مطالعہ كرنا ہے۔
457422