تنزانیہ میں قرآنی تعليم كی كمزوری كا سرچشمہ استاد اور معلم كی كمی ہے

IQNA

تنزانیہ میں قرآنی تعليم كی كمزوری كا سرچشمہ استاد اور معلم كی كمی ہے

13:34 - September 09, 2009
خبر کا کوڈ: 1824289
قرآنی سرگرمياں گروپ: تنزانیہ كے ۲۰ صوبوں میں كتنی ہی تعداد میں اسلامی اوراكیڈمی سكول موجود ہیں جو سب كے سب بوسيدہ عمارتوں اور بعض اوقات كھلے آسمان تلے قرآن كريم كی تعليم میں مشغول ہیں ليكن اس ملك میں قرآنی تعليم كی كمزوری كی سب سے بڑی وجہ استاد اور معلم كا نہ ہونا ہے۔
تنزانیہ كے مفتی اعظم شيخ "شعبان عيسی سيمبا" نے بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی''ايكنا" كے تنزانیہ میں نامہ نگار سے بات چيت كے دوران تنزانیہ میں ايرانی مسلمانوں اور قرآنی نمائندوں كی آمد پر خوشی كا اظہار كرتے ہوئے اس ملك كے مسلمانوں كی مشكلات سے پردہ اٹھايا ہے۔
انہوں نے مزيد كہا كہ ہم عرصہ دراز سے قرآن كريم كی تعليم دينے میں مشغول ہیں جبكہ ہماری بنيادی مشكل یہ ہے كہ تنزانیہ كی حكومت قرآنی ثقافت كی نشرواشاعت كے لئے ہماری كوئی امداد نہیں كرتی۔
انہوں نے مزيد كہا كہ ہماری سب سے اہم ضرورت، تربيت معلم ہے۔ ہمارے لوگ قرآن كريم اور اس كی تعليم حاصل كرنے كے عاشق ہیں ليكن ہمارے پاس كوئی معلم نہیں ہے۔ تنزانیہ كے مفتی اعظم نے اس ملك كی دوسری سب سے بڑی مشكل عيسائيت كی ترويج كی طرف اشارہ كرتے ہوئے كہا كہ عيسائی امريكہ، برطانیہ، پرتگال، جرمنی جيسے ممالك كی امداد سے مذہب عيسائيت كو پھيلا رہے ہیں۔
انہوں نے كہا كہ تنزانیہ كی ۴ كروڑ آبادی میں سے ۶۰ فيصد مسلمان ہیں جبكہ مالی طور پر مضبوط نہ ہونے كی وجہ سے اس ملك میں عيسائيت پھيل رہی ہے۔
460756

نظرات بینندگان
captcha