مصر كے بين الاقوامی قرآنی مقابلوں میں تيسری پوزيشن حاصل كرنے والے حافظ كل قرآن كريم "حسن سليمانی" نے بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" سے گفتگو كرتے ہوئے كہا ہے كہ لوگوں كے درميان رائج تصور اورغلط تبليغات كے باوجود ايران میں قرآنی سرگرميوں كا ماحول مصر جيسے عربی ممالك سے كہیں زيادہ پسنديدہ ہے۔
انہوں نے مزيد كہا كہ اس قسم كے بين الاقوامی مقابلوں كہ جن میں ايرانی حفاظ اور قاری حصہ ليتے ہیں ان سے پتہ چلتا ہے كہ ايران میں قرآنی سرگرميوں كے لئے بہترين وسائل اور اساتذہ موجود ہیں۔
سليمانی نے كہا ہے كہ خود مصر میں زنجان كے دارالقرآن كريم جيسا كوئی انسٹیٹيوٹ موجود نہیں ہے اور ان مقابلوں میں حصہ لينے كی غرض سےجتنا عرصہ میں مصر رہا ہوں نہ تو شبہائے قدر كے پروگرام منعقد ہوئے اور نہ ہی حكومتی عہديداروں نے روز قدس كی مناسبت سے كوئی پروگرام منعقد كیے جبكہ ايران میں ہر سال شبہائےقدر سے بہتر استفادہ كرنے كے لئے بہت بہترين ماحول فراہم كيا جاتا ہے۔
467766