گھريلو امورمیں شدت پسندی كا مقابلہ كرنے كے لیے ناروے كے مسلمانوں اور عيسائيوں كی مشتركہ كوشش

IQNA

گھريلو امورمیں شدت پسندی كا مقابلہ كرنے كے لیے ناروے كے مسلمانوں اور عيسائيوں كی مشتركہ كوشش

13:51 - November 23, 2009
خبر کا کوڈ: 1853151
بين الاقوامی گروپ: ناروے كے كليساوں كی بين الاقوامی روابط كونسل كے تعاون سے اس ملك كے مسلمانوں كی كونس نے ايك مشتركہ بيانیہ صادر كرتے ہوئے ناروے كے خاندانوں كے درميان شدت پسندی كے فروغ كے بارے میں خبر دار كيا ہے۔
بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" نے "icenews'' كے حوالے سے نقل كيا ہے كہ ناروے كے مختلف علاقوں میں گھريلو شدت پسندی كے فروغ كا مقابلہ كرنے كی ضرورت پر زور ديتے ہوئے اس بيانیے میں آيا ہے كہ گھريلو شدت پسندی ناروے كے معاشرے كا ايك اصلی بحران بنا ہوا ہے اور اس وقت ہر چار عورتوں میں سے ايك عورت شدت پسندی كا شكار ہے۔
ناروے كے مسلمانوں كی كونسل كے سيكرٹری جنرل "شعيب محمد سلطان" نے اس سلسلے میں كہا ہے كہ ہم ناروے كے عيسائی پيروكاروں كے تعاون سے اس شدت پسندی كے پھيلنے كے خطرے اور اس سماجی مشكل كو جڑ سے اكھاڑ پھينكنے كے لیے سب لوگوں كو باخبر ركھنے كا ارادہ ركھتے ہیں۔
انہوں نے كہا كہ خاندان كے افراد سے سخت برتاؤ ايسے مسائل میں سے ہے كہ جن كا دين اسلام شديد مخالف ہے۔
497064
نظرات بینندگان
captcha