بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" نے "icenews'' كے حوالے سے نقل كيا ہے كہ ناروے كے مختلف علاقوں میں گھريلو شدت پسندی كے فروغ كا مقابلہ كرنے كی ضرورت پر زور ديتے ہوئے اس بيانیے میں آيا ہے كہ گھريلو شدت پسندی ناروے كے معاشرے كا ايك اصلی بحران بنا ہوا ہے اور اس وقت ہر چار عورتوں میں سے ايك عورت شدت پسندی كا شكار ہے۔
ناروے كے مسلمانوں كی كونسل كے سيكرٹری جنرل "شعيب محمد سلطان" نے اس سلسلے میں كہا ہے كہ ہم ناروے كے عيسائی پيروكاروں كے تعاون سے اس شدت پسندی كے پھيلنے كے خطرے اور اس سماجی مشكل كو جڑ سے اكھاڑ پھينكنے كے لیے سب لوگوں كو باخبر ركھنے كا ارادہ ركھتے ہیں۔
انہوں نے كہا كہ خاندان كے افراد سے سخت برتاؤ ايسے مسائل میں سے ہے كہ جن كا دين اسلام شديد مخالف ہے۔
497064