بسم اللہ الرحمن الرحيم
موسم حج، آفاق عالم میں توحيد كی درخشندگی اور بہار معنويت كا موسم ہے۔ حج وہ صاف و شفاف چشمہ ہے جو حج كرنے والے كو گناہ اور غفلت كی آلودگيوں سے پاك كركے، اس كے دل وجان میں فطرت كی خداداد نورانيت كو نئی حيات دے سكتا ہے۔ ميقات حج میں تفاخر اور امتياز كا لباس اتار پھينكنا اور يك جہتی و ہمہ گيريت كا لباس "احرام" زيب تن كرنا، امت اسلامیہ كی يكرنگی كی علامت اور پورے عالم میں مسلمانوں كے اتحاد و ہمدلی كا مظہر ہے۔ حج كا پيغام ايك طرف "فالھكم الہ واحد فلہ اسلموا و بشرالمخبتين" (يعنی اور تمہارا معبود واحد معبود ہے تو اس كے سامنے سر تسليم خم كر دو اور گڑگڑا كر مناجات كرنے والوں كو بشارت دے دو) ہے اور دوسری طرف " والمسجد الحرام الذی جعلناہ للناس سواء العاكف فیہ والباد" ( يعنی اور مسجد الحرام جسے اس نے انسانوں كے لئے قرار ديا ہے خواہ وہ مقامی لوگ ہوں يا باہر سے آئے ہوئے افراد) ہے۔ بنابریں كعبہ، اللہ كی وحدانيت كی علامت كے ساتھ ہی اسلامی اخوت و برابری اور توحيد كلمہ كا مظہر بھی ہے۔
دنيا كے ہر چہار طرف سے جو مسلمان كعبے كے طواف اور روضہ رسول اكرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم كی زيارت كے اشتياق كے ساتھ یہاں جمع ہوئے ہیں انہیں چاہئے كہ اس موقع كو اپنے درميان برادری كے رشتوں كو مستحكم كرنے كے لئے، جو امت اسلامیہ كے بہت سے بڑے مسائل كا حل ہے، غنيمت سمجھیں۔ میں آج واضح طور پر ديكھ رہا ہوں كہ اسلامی دنيا كے بدخواہ، پہلے سے زيادہ مسلمانوں كے درميان تفرقہ ڈالنے میں مصروف ہیں۔ یہ ايسی حالت میں ہے كہ امت اسلامیہ كو آج پہلے سے زيادہ اتحاد و يكجہتی كی ضرورت ہے۔آج دشمنوں كے خون آلود پنجے مختلف اسلامی سرزمينوں میں كھلے عام دردناك المئے رقم كر رہے ہیں۔ صیہونيوں كے خباثت آميز تسلط میں گرفتار فلسطين كے درد و غم میں روز افزوں اضافہ ہو رہا ہے۔ مسجدالاقصی سخت خطرے میں ہے۔ غزہ كے عوام اس نسل كشی كے بعد جس كی تاريخ میں مثال نہیں ملتی، بدستور سخت ترين حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔ افغانستان قابض طاقتوں كے بوٹوں تلے ہر روز ايك نئی مصيبت سے دوچار ہو رہا ہے۔ عراق میں پھيلی بد امنی نے عوام كا آرام و سكون چھين ليا ہے۔ يمن میں برادر كشی نے امت اسلامیہ كے قلب كوايك نيا داغ ديا ہے۔
پوری دنيا كے مسلمان سوچیں كہ حالیہ برسوں میں عراق، افغانستان اور پاكستان میں فتنوں، جنگوں، دھماكوں، دہشتگردی اور قتل عام كی وارداتوں كا جو سلسلہ شروع ہوا ہے، اس كی منصوبہ بندی كہاں اور كس طرح ہو رہی ہے؟ اس علاقے میں امريكا كی سركردگی میں مغربی افواج كی مالكانہ اور تحكمانہ آمد سے پہلے اقوام كو ان تمام مصيبتوں اور درد وغم كا سامنا كيوں نہیں تھا؟ قابض طاقتیں ايك طرف تو فلسطين، لبنان اور ديگر علاقوں میں عوامی مزاحمتی تحريكوں كو دہشتگردی كا نام ديتی ہیں اور دوسری طرف اس علاقے كی اقوام كے درميان وحشيانہ قومی اور فرقہ وارانہ دہشتگردی كی منصوبہ بندی اور قيادت كر رہی ہیں۔ مشرق وسطی اور شمالی افريقا كے علاقے سو سال سے زائد عرصے سے برطانیہ، فرانس اور ديگر مغربی حكومتوں اور ان كے بعد امريكا كے ہاتھوں استحصال، تسلط اور ذلت و حقارت كا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ ان كے قدرتی ذخائر كو لوٹا گيا، ان كے جذبہ حريت و آزادی كو كچلا گيا، ان كی اقوام، جارح بيرونی طاقتوں كی لالچ كی بھينٹ چڑھیں اور جب اسلامی بيداری اور اقوام كی مزاحمت كی تحريكوں نے بين الاقوامی ستمگروں كے لئے اس صورتحال كا جاری ركھنا ناممكن بنا ديا اور جب شہادت كا جذبہ اور "عروج الی اللہ و فی سبيل اللہ" كا معاملہ اسلامی جہاد كے ميدان میں ايك بار پھر بے نظير عنصر كے طور پر نماياں ہوا تو شكست خوردہ جارح قوتوں نے مكر و فريب كے طريقے اپنائے اور ماضی كی روشوں كی جگہ جديد سامراجيت كو دے دی ليكن آج مختلف الاشكال استعماری عفريت نے اسلام كو جھكانے كے لئے پوری طاقت لگادی ہے اورفوجی قوت، آہنی پنجے اور آشكارا تسلط سے ليكر پروپيگنڈوں كے شيطانی سلسلے، جھوٹ اور افواہ پھيلانے كے ہزاروں وسائل بروئے كار لانے، لوگوں كے بے رحمانہ قتل اور غارت گری كے دستے اور دہشتگرد گروہ تيار كرنے تك اور اخلاقی بے راہ روی كے وسائل كے فروغ، منشيات كی پيداوار میں توسيع اور انہیں پھيلانے سے ليكر نوجوانوں كے عزم و حوصلے اور كردار كو پست كرنے تك اور مزاحمت كے مراكز كے خلاف ہمہ گير سياسی يلغار سے ليكر قومی امتياز اور فرقہ وارانہ تعصب بھڑكانے اور بھائيوں كے درميان تفرقہ ڈالنے تك ( تمام ہتھكنڈے استعمال كئے ہیں۔)
اگر مسلم اقوام ، اسلامی فرقوں اور مسلمان مسالك كے درميان بد گمانی اور بد ظنی كی جگہ جو دشمن چاہتے ہیں، محبت، حسن ظن اور ہمدلی لے لے تو بدخواہوں كی سازشیں ناكام ہوجائیں گی اور امت اسلامیہ پر اپنا روز افزوں تسلط جمانے كے ان كے منحوس منصوبے خاك میں مل جائیں گے ۔ حج ان اعلا مقاصد كی تكميل كے لئے بہترين مواقع فراہم كرتا ہے۔
مسلمان باہمی تعاون اور ان مشتركہ بنيادوں كا سہار ليكر جن كی جانب قرآن و سنت میں اشارہ كيا گيا ہے، اس مختلف الاشكال ديو كے مقابلے پر ڈٹ جانے كی طاقت حاصل كرسكتے ہیں اور اس كو اپنے ايمان و عزم سے مغلوب كرسكتے ہیں۔ اسلامی ايران، عظيم الشان امام خمينی (رہ) كی تعليمات پر عمل پيرا ہوكر اس كامياب مزاحمت كا واضح ترين نمونہ بن گيا ہے۔ انہیں اسلامی ايران میں شكست كا منہ ديكھنا پڑا ہے۔ تيس سال كے ہتھكنڈے، سازشیں اور دشمنی؛ بغاوت اور آٹھ سالہ مسلط كردہ جنگ سے لے كر پابنديوں اور اثاثوں كے ضبط كئے جانے تك اور نفسياتی و تشہيراتی جنگ اور ابلاغياتی صف آرائی سے لے كر سائنسی ترقی اور نئے علوم منجملہ ایٹمی ٹكنالوجی تك رسائی كا سد باب كرنے كی كوششوں تك اور حتی گزشتہ انتخابات كے با معنی و پر شكوہ معاملے میں آشكارا مداخلت اور اشتعال انگيزی تك سب كے سب دشمن كی شكست، پسپائی اور سراسيمگی كے مناظر میں تبديل ہو گئے اور اس آيت كی " انّ كيد الشيطان كان ضعيفا" (يعنی بے شك شيطان كا حيلہ و فريب كمزور پڑ گيا) عملی تصوير ايرانيوں كی نظروں كے سامنے ايك بار پھر آ گئی۔
اور اسی طرح ہر اس جگہ جہاں عزم و ايمان سے اٹھنے والی مزاحمت، غرور و تكبر میں چور مستكبرين كے مقابلے پر آئے گی، كاميابی مومنين كو نصيب ہوگی اور شكست و رسوائی ستمگروں كا يقينی مقدر ہوگا۔ حالیہ تين برسوں میں، لبنان كی تينتيس روزہ (جنگ میں) نماياں فتح اور غزہ كا (بائيس روزہ) سربلند جہاد اور كاميابی اس حقيقت كی زندہ مثال ہے۔
تمام سعادت مند حجاج كرام بالخصوص اسلامی ملكوں كے خطباء و علماء، جو وعدہ الہی كے اس مركز میں شرفياب ہوئے ہیں اور حرمين شريفين كے خطبائے جمعہ سے تاكيد كے ساتھ ميری سفارش یہ ہے كہ مسئلے كے صحيح ادراك كے ساتھ اپنے آج كے اولين فريضے كو پہچانیں، اپنے سامعين كے درميان دشمنان اسلام كی سازشوں كو بے نقاب كریں اور عوام كو باہمی اتحاد و محبت كی دعوت دیں اور ہر اس چيز سے سختی سے پرہيز كریں جو مسلمانوں كے درميان بدگمانی بڑھاتی ہے اور پورا جوش و ولولہ مستكبرين، امت اسلامیہ كے دشمنوں اور تمام فتنوں كی جڑ يعنی صیہونزم اور امريكا كے خلاف بروئے كار لائیں اور اپنے قول و فعل میں مشركين سے بيزاری كو نماياں كریں۔
خداوند عالم سے خاكساری كے ساتھ اپنے لئے اور آپ تمام حضرات كے لئے ہدايت، توفيق، نصرت اور رحمت كی دعا كرتا ہوں۔
والسلام عليكم
سيد علی حسينی خامنہ ای
سوم ذی الحجۃ الحرام 1430
http://urdu.khamenei.ir/