بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" كی رپورٹ كے مطابق روزنامہ "نيووژن" كے نامہ نگار "جون مامو" كے توسط سے تحرير كیے جانے والے مقالے میں اسلامی انقلاب ايران كے وقوع كے اسباب اور اس كے كارناموں كا جائزہ ليا گيا ہے۔
اس مقالے كے بعض بعض حصوں میں آيا ہے كہ اكيسویں صدی كی آمد دنيا كے تمام سياسی و ثقافتی واقعات كے ساتھ ساتھ ۱۱ فروری ۱۹۷۹ء كو اسلامی انقلاب ايران كے وقوع پذير ہونا بھی كئی لحاظ سے قابل غور ہے اور اس انقلاب كے وقوع پزير ہونے كے دلائل ايرانی عوام كے دينی اعتقادات، پہلوی حكومت كے سياسی حالات اور اہم علاقے میں ايران كے مقام میں جستجو كيا جا سكتا ہے۔
اسلامی جمہوریہ ايران جو دنيا كا ايك قديمی تمدن شمار ہوتا ہے اور ايك جديد سياسی نظام كے عنوان سے اس نے اپنا اصلی مسئلہ ثقافتی تبديلی قرار ديا ہے۔
532833