بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" شعبہ اردن نے اردنی روزنامہ "الدستور" كے حوالے سے نقل كيا ہے كہ اس سيمينار میں اردنی شہريوں اور بعض ثقافتی ماہرين نے شركت كی ہے۔
اردنی رائٹر اور محققين "محمد عواد" نے اس سيمينار میں یہودی سازی قدس كو قانونی ظاہر كرنے كی غرض سے توريت میں ہونے والی تحريفات كا جائزہ ليا ہے۔
عواد نے كہا ہے كہ مقبوضہ فلسطين اور دنيا كے ديگر علاقوں كا كوئی بھی یہودی مسجد الاقصی كے نزديك يا اس كے نيچے "معبد خيالی" كے موجود ہونے پر دليل پيش نہیں كر سكتا كيونكہ اس قسم كے خيالی معبد كا كوئی وجود نہیں ہے۔
539245