بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" نے "tunisiesoir" كے حوالے سے نقل كيا ہے كہ تيونس، الجزائر، مراكش اور متحدہ عرب امارات كے محققين كی شركت سے منعقد ہونے والی اس نشست میں قرآنی متون كی تشريح كے اصلی طريقے اور معنوی اور سماجی پہلو كے محتوا كے قالب كا جائزہ ليا گيا ہے۔
تيونس كے تمدن عربی اور اسلامی اعلی انسٹیٹيوٹ كےشيعہ شريعت ك انچارج ہشام گريسا نے اس نشست میں كہا ہے كہ قرآن كريم كے متعدد قرائتیں ان كے اصلی معنی كے اعتبار سے اعتقادی اور ثقافتی مسائل كے لئے نقصان دہ نہیں ہیں جس طرح كہ مكاتب اور مذاہب كا مختلف ہونا مذہب كا اعتقادی، فقہی اور بنيادی ميدانوں میں گفتگو كےفروغ كا باعث ہے۔
562489