بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی"ايكنا" شعبہ لبنان كے مطابق لبنان كے مختلف گروپوں كے نمائندوں، سياسی اور سماجی كاركنوں نے اس اجتماع میں شركت كی ہے۔
لبنان كے روزنامہ نگار "محمد بلعلكی" نے اس اجتماع سے اپنے خطاب كے دوران كہا كہ ہم ايك عيسائی گستاخ قرآن كے اس اقدام پر خاموشی اختيار نہیں كرسكتے۔
انہوں نے مزيد كہا كہ اس قسم كے افراد اور ملحد اور ظالم ہیں جو خداوند متعال كے عذاب سےمحفوظ نہیں رہیں گے اور اس قسم كے اعمال كے عناصر كو فلسطينی غاصبوں كے ساتھ سزا دی جانی چاہیے۔
لبنان كی شيعہ اسلامك سپريم كونسل كے نمائندے "محمد علی مقداد" نے بھی اپنی تقرير میں كہا كہ اسلام، نرمی اور ايك دوسرے كو قبول كرنے كا دين ہے اور اس مريكی پادری كی طرف سے قرآن كريم كو جلانے كےواقع كی تحقيق ہونی چاہیے۔
لہذا لبنان كے تمام مسلمانوں اور عيسائيوں كو دعوت دی جاتی ہے كہ وہ اس قسم كی اہانتوں كے سدباب كے لئے اقدامات كریں۔
669567