بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی"ايكنا" نے "Express Buzz" سائٹ كے حوالے سے نقل كياہے كہ ہندوستان كی اسلامی يونيورسٹی كی كوششوں اور جدہ اسلامك ريسرچ و ايجوكيشن انسٹیٹيوٹ كے تعاون سے "كوچی" شہر كے "مريديان" ہوٹل میں منعقد ہونے والے اس سيمينار كا مقصد اسلامی بينك كاری نظام سے زيادہ سے زيادہ آگاہی حاصل كرنا ہے۔
اس سيمينار میں اسلامی معيشت كے ميدان میں ہونے والی ترقی، اسلامی خورد اقتصاد،اسلامی بانڈز، اسلامی انشورنسل اور ہندوستان میں اسلامی فنانشل سروسز كے لئے ماركیٹنگ كا راہ حل جيسے موضوعات كا جائزہ ليا گيا ہے۔
ہندوستان كی ہائی كورٹ كے سابقہ جج "كرشنا آئر" نے اس سيمينار كی افتتاحی تقريب سے خطاب كرتے ہوئے كہا كہ اسلامی بينك كاری كے سود سے منع كرنے والے اصولوں كی بنياد انسانی اصولوں پر قائم ہے لہذا اسلامی معيشت اور بينك كاری كے خلاف اختيار كیے جانے والے غلط موقف كا خاتمہ ہونا چاہیے۔
انہوں نے مزيد كہا كہ اسلامی بينك كاری زيادہ سے زيادہ پروڈكشن كی حمايت كرتی ہے۔
كہ جو قرضہ لينے والے افراد كی رفاہ كا باعث ہے اور یہ وہی اخلاقی بينك كاری ہے۔
669110