يونيسكو نے اسرائيل كی جانب سے اسلامی ورثہ كو یہودی ورثہ قرار ديئے جانے كی مخالفت كردی

IQNA

يونيسكو نے اسرائيل كی جانب سے اسلامی ورثہ كو یہودی ورثہ قرار ديئے جانے كی مخالفت كردی

12:03 - November 02, 2010
خبر کا کوڈ: 2024140
بين الاقوامی گروپ: اقوام متحدہ كے ذيلی ادارے يونيسكو نے اسرائيل كی جانب سے فلسطين میں موجود اسلامی ورثہ كو یہودی ورثہ كی فہرست میںشامل كئے جانے كی شديد مخالفت كی ہے۔
بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی ايكنا كی رپورٹ كے مطابق اقوام متحدہ كے ذيلی ادارے يونيسكو نے اسرائيلی حكام كو ايك خط تحرير كيا ہے جس میں فلسطين میں موجود بعض مقدس مقامات كو اسلامی ورثہ قرار ديا ہے اور اسرائيل كی جانب سے ان مقدس مقامات كو یہودی ورثہ قرار دیے جانے كی شديد مخالف كی ہے۔
تفصيلات كے مطابق معا نيوز ويب سائٹ نے خبر دی ہے كہ يونسكو كے اس اقدام كو فلسطينی تنظيموں كی جانب سے بہت سراہا گيا ہے اور مسلم مبلغين اور دانشوروں كی تنظيم نے آج ايك بيان شائع كيا ہے جس میں كہا گيا ہے كہ يونيسكو كی جانب سے الخليل میں واقع ممسجد حضرت ابراہيم اور بيت لحم میں موجود مسجد حضرت بلال بن رباح كو یہودی ورثہ سے نكلوانے كی كوششیں قابل تحسين ہیں۔
بيان میںمزيدكہا گيا ہےكہ صہيونی حكومت فلسطين میںموجود مقدس مقامات كو اسلامی ورثہ قرار ديئے جانے كے باوجود انہیںخراب كرنے كے درپے ہے۔
686663
نظرات بینندگان
captcha