حج كی مناسبت سے ولی امر مسلمانان عالم كا دلنشیں بيان

IQNA

حج كی مناسبت سے ولی امر مسلمانان عالم كا دلنشیں بيان

12:58 - November 15, 2010
خبر کا کوڈ: 2032496
ہر دلعزيز ولی امر مسلمانان عالم آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے حج كی مناسبت سے ايك عظيم الشان بيان جاری كيا ہے جس میں امت مسلمہ كی اسلامی بيداری كی طرف اشارے كرتے ہوئے كعبہ اور حج كو وحدت مسلمين كا عظيم مظہر قرار ديا ہے۔
بسم لله الرحمن الرحيم
الحمد للہ رب العالمين و صلی لله علی سيدنا محمد المصطفی و آلہ الطيبين و صحبہ المنتجبين
كعبہ، جو وحدت و عزت كا راز اور توحيد و معنويت كا مظہر ہے، موسم حج میں مشتاق دلوں
اور اميدوں كا ميزبان ہے اور رب جليل كی دعوت كو قبول كر كے پوری دنيا سے لبيك كہنے
والے اسلام كی پيدايش كی سرزمين كی طرف آئے ہیں. آج، امت اسلامیہ اس دين حنيف يعنی اسلام
كے پيروؤں كی گوناگون ترقيوں اور ان كے ايمان كی گہرائيوں كو دنيا كے كونے كونے سے آئے
ہوئے عاشقوں كی آنكھوں سے مشاہده كر سكتی ہے، اور اس عظيم اور بے مثال سرمایہ كو پہچان
سكتی ہے.
مسلمانوں كی یہ خودشناسی، موجوده دنيا اور مستقبل میں ہمیں اپنے شائستہ مقام كو پہچاننے
میں مدد كر سكتی ہے تا كہ ہم اس راه پر گامزن ہو جائیں.
موجوده دنيا میں اسلامی بيداری كی لہر، ايك ايسی حقيقت ہے جو امت اسلامیہ كو ايك
خوشحال مستقبل كی نويد دے رہی ہے. یہ بيداری، تيس سال پہلے ہمارے اسلامی انقلاب كی كاميابی
اور اسلامی جمہوریہ كے نظام كی تشكيل كے نتيجے میں موجزن ہوئی ہے، ہماری قوم، اس راه پر
مسلسل گامزن ہے اور اس راه كی ركاوٹوں كو دور كرتے ہوئے يكے بعد ديگرے مورچے فتح كر
چكی ہے. سامراج كی دشمنی كا پيچيده ترين طريقہ كار اور اسلام كے مقابلے میں زبردست
كوششیں كرنا بھی اسی اسلامی بيداری كی وجہ سے ہے. اسلام ہراسی كے موضوع پر دشمن كا
وسيع پروپيگنڈه، اسلامی فرقوں كے درميان اختلاف و افتراق پھيلانے كی سرتوڑ كوششیں، فرقہ
وارانہ تعصبات كو بھڑكانے كا كام، شيعوں میں سنيوں كے خلاف فرضی دشمنی پيدا كرنا اور
سنيوں میں شيعوں كے خلاف بے بنياد دشمنی ايجاد كرنا، مسلمان حكومتوں كے درميان اختلافات
كو شدت بخشنا اور ان اختلافات كو ناقابل حل دشمنيوں میں تبديل كرنا اور نوجوان طبقہ میں فتنہ و
فساد كو پھيلانے كے لئے جاسوسی ايجنسيوں سے استفاده كرنا، سب كا سب امت اسلامیہ كی
بيداری، عزت اور آزادی كی طرف مستحكم اور پائيداری كے ساتھ گامزن ہونے كے مقابلے میں
دشمن كے حيران و پريشان كن رد عمل كا مظاہره ہے .
آج، تيس سال پہلے كے مانند صہيونی حكومت ناقابل شكست طاقت نہیں ہے، دو دہائی قبل كے
مانند، آج امريكہ اور مغربی طاقتیں، مشرق وسطی میں چون و چرا كے بغير فيصلہ كرنے والی
نہیں ہیں، دس سال قبل كے مانند، آج علاقہ كی مسلمان قوموں كے لئے جوہری ٹيكنالوجی اور
دوسری پيچيده ٹيكنالوجيوں پر دسترس حاصل كرنا ناممكن اور افسانہ شمار نہیں ہوتا ہے. فلسطينی
قوم، آج، مقاومت كے سلسلہ میں ايك سورما كی حيثيت ركھتی ہے. لبنانی قوم نے تينتيس دن كی
جنگ میں اكيلے ہی صہيونيوں كی كھوكھلی ہيبت كو خاك میں ملا كر فتح و ظفر كا پرچم بلند كيا
ہے اور ايرانی قوم، فتح وكاميابی كی چو ٹيوں كو سر كرنے كی اس تحريك كی خط شكن اور علم
بردار ھے.
آج، اسلامی علاقوں میں خودساخته سپه سالاری كا دعوی كرنے والا اور غاصب صھيونی
حكومت كا حقيقی حمايت اور پشت پناھی كرنے والا امريكی سامراج خود اپنے ايجاد كئے ھوئے
دلدل میں پھنس چكاھے اورعراقی عوام پر بے شمار ظلم و ستم ڈھانے كے باوجود، شكست سے
دوچار ہو رھا ہے، مصيبت زده پاكستان میں ہميشہ كی بہ نسبت منفورتر ہو چكا ہے. اسلام دشمن
محاذ، جو گزشتہ دو صديوں تك اسلامی قوموں اور حكومتوں پر ظالمانہ تسلط جمائے ہوئے تھا
اور ان كے منابع كو لوٹ رہا تھا، آج اپنے زوال اور مسلمان قوموں كی بہادرانہ مقاومت كا مشاہده
كر رہا ہے، اور اس كے مقابلے میں اسلامی بيداری كی تحريك روز بروز عميق تر ہوتی ہوئی
آگے بڑھ رہی ہے. یہ اميد افزا اور نويد بخش حالات، ہم مسلمانوں كے لئے ہميشہ سے زياده مطلوبہ
مستقبل كی طرف بڑھانے اور اپنے درس عبرت كے نتيجے میں ہمیں پھلے سے زياده ھوشيار
رھنے كا سبب بننے چاہئیں. بے شك یہ عام خطاب، علمائے دين، رہبروں، دانشوروں اور جوانوں
2
كو دوسروں كی بہ نسبت زياده ذمہ داری كی ياددہانی كراتا ہے اور ان سے مجاہدت اور پيش قدمی
كا مطالبہ كرتا ہے.
كُنْتُمْ خَیْرَ أُمَّةٍ » : اس سلسلے میں قرآن مجيد صاف اور واضح لفظوں میں يوں ارشاد فرماتا ہے
تم بہترين امت ہو جو لوگوں " «
نظرات بینندگان
captcha