ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی ايكنا نے اطلاع رساں ويب سایٹ trouvetamosquee كے حوالے سے نقل كرتے ہوئے كہا ہے كہ مختلف اديان كے درميان مكالمے اور دوستانہ گفتگو كے ارتقا كے لیے بوسی سن ژرژ(Busy-Saint-Georges شہر كی انتظامیہ نے فيصلہ كيا ہے كہ ۲۰۱۲ء كے آخر تك مسجد، چرچ، مندر اور خانقاہ پر مشتمل ايك ثقافتی مركز كی تعمير كرے ۔
اطلاعات كے مطابق یہ بھی طے ہے كہ التوبہ نامی اس مسجد كے ہمراہ مسلمانوں كے استفادے كے لیے اسلامی سنٹر، لائبريری ، كانفرنس ہال ، قرآن كی تعليم كا مركز اور ثقافتی انسٹی ٹيوٹ بھی بنايا جائے ۔
قابل ذكر ہے كہ ہر مذہب كے پيروكاروں كی تعداد كے مطابق ان كی عبادت گاہ كا رقبہ ہو گا اس اعتبار سے مسلمانوں كی مسجد ۲۰۰۰ مربع میٹر پر مشتمل ہو گی جو رقبے كے اعتبار سے تيسرا نمبر بنتا ہے ۔
790847