قرآنی خبررساں ايجنسی (ايكنا) كی رپورٹ كے مطابق اس "atlasinfo" ويب سائٹ سے نقل كيا ہے كہ مراكش كے وزير اطلاعات ، اس ماہ كے دوران فرانس كے مختلف ميگزين میں پيغمبر(ص) كی طرف منسوب مختلف تصاوير كی اشاعت كی تھی ، اس ہفتہ 4 فروری كو بھی ايك اور ميگزين "Nouvel Observateur"پر بھی پابندی لگادی ہے۔ كيونكہ اس ميگزين میں بھی ايك اور تصوير كی اشاعت كی گئی ہے۔
مراكش كے وزير اطلاعات مصطفی خلفی نے گفتگو كے دوران اس آخری ميگزين پر پابندی كی وجہ یہ بتائی ہے كہ اس میں ايك فلم"پرسپوليس" میں خداوند متعال كو انسانی صورت میں ايك لڑكی سے گفتگو كرتے ہوئے دكھايا گيا اور اس سے لی گئی تصوير كو اس ميگزين میں شائع كيا گيا ۔ اور ہم نے اس كی خريد و فروخت پر پابندی عائد كردی ہے۔
مراكش كے وزير اطلاعات نے بتايا كہ اس فلم كو تيونس میں دكھايا گيا جس كی وجہ سے مسلمان مشتعل ہوگئے۔ كيونكہ یہ مسلمانوں اور اسلام كی توہين كا باعث ہے۔ اور اس قسم كا اقدام تعليمات اسلامی كے خلاف ہے۔ ان كے بيانات كے مطابق پيغمبر اكرم(ص) كی بے احترامی، مسلمانوں كی توہين ہے اور اس ملك كے مطبوعات كے قانون كے مطابق مادہ 29 كے تحت اس روزنامہ اور ميگزين كی خريد و فروخت پر پابندی ہونی چاہئے ۔
واضح رہے كہ اس گذشتہ ہفتہ كے دوران ، جنوری اور فروری كے فرانسيسی ميگزين "غزال" میں بھی پيغمبر اكرم (ص) كی تصوير كو شائع كيا تھا اور مراكش كی وزارت اطلاعات نے اس كی خريد و فروخت پر پابندی عائد كردی تھی۔
وزارت اطلاعات مراكش كے بيان كے مطابق ، اس قسم كی تصاوير كو شائع كرنا نہ صرف پيغمبر اكرم (ص) كی شخصيت كی توہين ہے بلكہ مسلمانوں كی بھی توہين ہے۔
947303