ايران كی قرآنی خبررساں ايجنسی (ايكنا) نے روزنامہ "الانباط"سے نقل كيا ہے كہ اس اخبار میں محمود ابراہيم نے "قرآن اور مسجد الاقصی كی بے حرمتی! اعراب اور مسلمان كہاں ہیں" كے عنوان سے مقالہ لكھا ہے ۔
بگرام ائير بيس پر امريكی فوجيوں كے ہاتھوں قرآن كريم كی بے حرمتی پہلی بار نہیں ہوئی بلكہ متعدد بار یہ شرمناك اقدام كيا گيا جس نے ايك ارب سے زيادہ مسلمانوں كے دلوں كو زخمی كرديا ہے۔ اسی لئے افغانی عوام ان كے خلاف اٹھ كھڑے ہوئے ہیں اور بگرام ائير بيس پر حملہ كرديا ۔
محمود ابراہيم نے لكھا ہے، جارج بش نے افغانستان پر حملے كے وقت صليبی جنگ كی بات كی تھی جسے بعض عرب رہنماؤں نے فقط لفظی جنگ قرار ديا تھا حالانكہ جارج بش نے یہ بات حقيقتاً كی تھی۔ اگر یہ واقعی عيسائی ہوتے تو قرآن كی بے حرمتی كی اجازت نہ ديتے كيونكہ اصلی عيسائيت اسلام اور مسلمانوں كے مقدسات كا احترام كرتی ہے۔ مسلمان اور عيسائی اكٹھے زندگی گذار رہے ہیں مسلمانوں نے كبھی انجيل مقدس كی توہين نہیں كی ہے۔
وہ مزيد لكھتا ہے ان دنوں میں قرآن كی بے حرمتی كے ساتھ ساتھ شدت پسند یہوديوں كی طرف سے مسجد الاقصی كی بے حرمتی بھی سامنے آئی ہے جس كے خلاف فلسطينيوں نے بھرپور مظاہرے كئے ہیں۔ عرب ممالك كے عوام نے مظاہرے نہیں كئے، نہ ہی عرب حكمرانوں اور نہ عرب ليگ نے صیہونيوں كے اس شرمناك اقدام پر احتجاج كيا ۔
آخر میں دعا كی كہ اللہ تعالی عرب اور مسلمان عوام كو جلد خواب غفلت سے بيدار كرے اور مسلمان امريكی اور صيوتنی استعمار كے خلاف اٹھ كھڑے ہوں تاكہ حق و باطل كی تشخيص ہوسكے۔
961203