فرانس كی اينٹی صیہونی كمیٹی"شالون فلسطين" (Collectif Chalon Palestine) كی ركن اور تيونسی تجزیہ نگار "نرجس بن عبادة" نے ايران كی قرآنی خبررساں ايجنسی ﴿ايكنا﴾ كے ساتھ خصوصی گفتگو كے دوران اس بات كی جانب اشارہ كرتے ہوئے كہ اسلام فوبيا كی ترويج اور دينی مقدسات كی توہين پر مبنی اقدامات مغربی دنيا كو درپيش اندرونی مشكلات سے عمومی افكار كو منحرف كرنے كے لیے ہیں خيال ظاہر كيا ہے امريكی فوجيوں كی جانب سے بگرام ائيربيس میں قرآن كو نذر آتش كرنے كے ساتھ يورپ میں عبادتی مراكز پر حملے اور مسجد الاقصی پر یہودی بستيوں میں آباد انتہا پسند صیہونيوں كے حملوں میں حالیہ شدت اتفاقی نہیں ہے ۔
انہوں نے مزيد كہا ہے كہ مغربی دنيا كو اسلام فوبيا كے پھيلاؤ میں ملنے والی جزوی كاميابی كے بعد جب بھی مشكلات كا سامنا كرنا پڑا تو اس نے ہمیشہ اپنے شوم اہداف تك رسائی كی خاطر مسلمانوں كو سياسی قربانی كے طور پر استعمال كیا ہے اور اس بات سے بھی بخوبی واقف ہے كہ مسلمانوں كے جذبات كو ٹھيس پہنچانے كا آسان ترين راستہ اسلامی مقدسات اور بالخصوص قرآنی كريم كی توہين كرنا ہے ۔
961981