قرآن كی بے حرمتی دينی مقدسات كی طرف مسلمانوں كی بيشتر توجہ كا باعث بنے گی

IQNA

قرآن كی بے حرمتی دينی مقدسات كی طرف مسلمانوں كی بيشتر توجہ كا باعث بنے گی

23:39 - March 05, 2012
خبر کا کوڈ: 2286234
بين الاقوامی گروپ : قبل ازیں كہ افغانستان اور دیگر ممالک میں رونما ہونے والے قرآن كی بے حرمتی جيسے واقعات امت اسلامیہ كے غم وغصے میں اضافہ كریں مسلمانوں كو چاہیئے کہ ان توہیں آمیز واقعات کے ذریعے كلام الہی اور دينی مقدسات كی نسبت اپنی كوتاہيوں پر توجہ اور ان كے ازالے كی كوشش کریں ۔
مورطانیہ میں مقيم فرانسوی الاصل محقق "ايان منصور توفيق ڈيگرانج" نے ايران كی قرآنی خبررساں ايجنسی ﴿ايكنا﴾ كے ساتھ خصوصی گفتگو كے دوران كہا ہے كہ بے شك قرآن كی توہين مسلمانوں كے لیے نا قبل برداشت اور غضب كا باعث ہے ليكن صرف بے حرمتی كے وقت قرآن كی طرف توجہ اسلامی معاشروں كے لیے ایک ناخشگوار امر ہے۔
قابل ذكر ہے كہ اس محقق كے مطابق اسلام ايك ايسے ماہر ڈاكٹر كی مانند ہے جو عصر حاضر كی ہر بيماری كا علاج كرتا ہے اگر مسلمان اپنے اچھے كردار كے ساتھ اسلامی تعليمات كو مناسب انداز سے دنيا كے سامنے پيش كریں تو پھركبھی بھی قرآن جلانے يا مساجد كی توہين جيسے واقعات رونما نہیں ہوں گے ۔
964301
نظرات بینندگان
captcha