شيعوں كے دينی اور سياسی مرجع امام موسی صدر نے سال ١۹٦۵ء كو اپنی مادر وطن ايران كو خير آباد كہا اوراپنے سفر كے دوارن ايك طرف لبنانی شيعوں كے ثقافتی ، سماجی ، معاشی اور سياسی اموركی اصلاح اور دوسری طرف دنيا والوں كے سامنے شيعوں كے حقيقی چہرے كو نماياں كرنے كو اپنا ہدف قرار ديا۔
امام موسی صدر كا اسٹریٹجيك ہدف یہ تھا كہ شيعوں كے لیے لبنان كے باقی فرقوں كی مانند ملك كے تمام سياسی ، سماجی ، ثقافتی اور اقتصادی شعبوں میں مشاركت كا موقع فراہم كيا جا سكے ۔
ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی (ايكنا) نے شيعوں كے اس عظيم الشان رہنما كے مقام ، لبنان كے شيعہ معاشرے میں ان كے نفوذ اور ان كی مایہ ناز شخصيت پر روشنی ڈالنے كے غرض سے علماء اور صاحب نظر شخصيات كے ساتھ خصوصی انٹرويوز پر مشتمل "رايحہ" نامی خصوصی مجلے كو ۴ مختلف زبانوں ؛فارسی ، عربی، انگلش اور فرانسوی میں شائع اور نشر كيا ہے ۔
961421