ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی (ايكنا) نے مصر سے نكلنے والے اخبار ، روزنامہ "الاھرام" كے حوالے سے نقل كرتے ہوئے كہا ہے كہ الھابش نے ۹ مارچ كو يوسف قرضاوی كے بيانات كا جواب ديتے ہوئے كہا : ہم دينی ، قانونی ، تاريخی اور سياسی دلائل سے استفادہ كرتے ہوئے قرضاوی كے فتوے كا جواب دیں گے ۔
انہوں نے قرضاوی کے عجيب و غريب فتوے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے واضح كيا : مختلف تاريخی ادوار میں قدس متعدد مرتبہ قبضہ كيا گيا ہے ليكن اب تك مسلمان علماء میں سے كسی نے بھی اس قسم كا فتوی جاری نہیں كيا ۔
انہوں نے واضح كيا : قرضاوی كا فتوی اسرائيلی حكومت كی ان سياسی پاليسيوں كی خدمت كے مترادف ہے جو قدس كو فلسطين سے جدا كرنے ، مسلمانوں اور مسيحيوں كو اس مقدس شہر سے بے دخل كرنے اور قدس كی یہودی سازی كے لیے اجرا كی جارہی ہیں ۔
968562