ايران كی قرآنی خبررساں ايجنسی (ايكنا) كی رپورٹ كے مطابق امريكی فوجيوں كے ہاتھوں قرآن كريم كی بے حرمتی كے واقعہ كو گذرے ہوئے كچھ دن ہی ہوئے تھے كہ دوسرا شرمناك واقعہ سامنے آيا ہے جس میں افغانی خواتين اور بچوں كا قتل عام كيا گيا ہے۔ افغانستان كے عوام نے اس واقعہ پر شديد غم و غصے كا اظہار كيا ہے۔اس وحشيانہ اقدام كرنے والے عوامل كو برسرعام سزا دينے كا مطالبہ كيا ہے۔
ان حالات میں امريكی وزير دفاع 14 مارچ كو افغانستان كے دورے پر صوبہ ہلمند پہنچے۔جہاں صحافيوں سے گفتگو كرتے ہوئے كہا كہ امريكہ نیٹو اور افغانستان كو باعزت طريقہ سے اس جنگ كو ختم كرنا چاہئے حالانكہ امريكہ اور اس كے اتحادی افغانستان كی سلامتی كے بہانے سے اپنی افواج ركھے ہوئے ہیں جبكہ اس غير ملكی افواج كی وجہ سے افغانستان میں تشدد بڑھتا جارہا ہے۔
اوباما نے 2014ء كو افغانستان سے امريكی افواج كے انخلاء كا سال قرار ديا ہے جبكہ ذرائع كا كہنا ہے كہ یہ اعلان افغانيوں كا غصہ ٹھنڈا كرنے كيلئے ہے عملی طور پر واشنگٹن نے افغانستان سے انخلاء كا كوئی فيصلہ نہیں كيا ہے،فوجی كمانڈروں كے اس بيان سے تائيد ہوئی ہے كہ 2014 تك افغانستان سے امريكی افواج كا انخلاء ممكن نہیں ہے۔
972134