بين الاقوامی گروپ : تيونس كے وزير مذہبی امور نے ملكی سطح پر مساجد كی فعاليتوں میں تبديلی كو غير تسلی بخش قرار ديتے ہوئے خيال ظاہر كيا ہے كہ مساجد كو اسلامی تہذيب و ثقافت كی ترويج و ترقی كا مركز ہونا چاہيئے اور عبادتی مقامات پر دينی تعليمات كے علاوہ دوسری بحثیں ان مقدس مقامات كے حقيقی فريضے كو فراموش كرنے كا سبب بنتی ہیں ۔
ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی (ايكنا) اطلاع رساں ويب سائیٹ «babnet»، كے حوالے سے نقل كرتے ہوئے كہا ہے كہ تيونس كے وزير مذہبی امور"نور الدين الخادمی" نے اپنے خطاب كے دوران بعض افراد اور گروپوں كی جانب سے مساجد كو اپنا آلہ كار بنانے كی مذمت كرتے ہوئے خيال ظاہر كيا ہے كہ قابل افسوس بات ہے كہ آج بعض افراد نے مساجد كو اپنے اصلی ہدف يعنی پروردگار كی عبادت اور اسلامی تہذيب كی ترويج كے مركز كی حيثيت سے دور كر دياہے ۔
انہوں نے زور ديا ہے كہ تيونسی عوام كے حالیہ انقلاب اور بن علی حكومت كے سقوط كے بعد مساجد دينی مسائل كی تحليل اور سالم گفتگو كی جگہ بننے كے بجائے مخلتف گروپوں كے درميان تنازعہ اور بحث و مباحثے كا مركز بن چكی ہیں ۔
975250