ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی (ايكنا ) نے اطلاع رساں ويب سائیٹ taqadoumiya، كے حوالے سے نقل كرتے ہوئے كہا ہے كہ تيونس كے وزير برائے مذہبی امور "نور الدين الخادمی" نے خيال ظاہر كيا ہے كہ مساجد كو سياسی مقاصد كے لیے استعمال کرنا مناسب نہیں ہے بلكہ ان مقدس مقامات كو ايك دوسرے كے احترام اور رواداری كے فروغ كا مرکز ہونا چاہيئے ۔
انہوں نے مزيد كہا ہے كہ تيونس كی ۵ ہزار مساجد میں سے تقريبا ۴۰۰ سے زائد مساجد وہابيوں كے قبضے میں ہیں اور ان میں سے بھی ۵۰ مساجد متعدد فرقہ ورانہ مشكلات سے دوچار ہیں ۔
انہوں نے واضح كيا ہے كہ وہابيوں نے اب تك تيونس كی مختلف مساجد من جملہ ؛ مسجد "الفاتح" كے سامنے كئی مرتبہ مظاہرہ كيا ہے ۔
انہوں نے كہا : گزشتہ سال وہابيوں نے شہر"سيدی بوزيد" كی سب سے بڑی مسجد جو تيونسی انقلاب كا نقطہ آغاز شمار ہوتی ہے ، پر قبضے كے بعد اسكا نام تبديل كر كے مسجد "قندھار" (افغانستان میں طالبان كی آماجگاہ) ركھا تھا ۔
977016