ايران كی قرآنی خبررساں ايجنسی ﴿ايكنا﴾ كی رپورٹ كے مطابق فلسطينی عوام كے دفاع كے حوالے سے فعال اور بين الاقوامی روابط میں ماسٹر ڈگری كے حامل محمد شاھدی نے "مزاحمت اور دينی تعليمات میں سيد حسن نصر اللہ كا کردار اور مقام" كے عنوان سے ايكنا كے لیے ايك خصوصی مقالہ لكھا ہے جس میں انہوں نے خيال ظاہر كيا ہے كہ ۲١ اگست ١۹٦۰ كو پيدا ہونے والے سيد حسن نصر اللہ نے ۲١ سال كی عمر میں امام خمينی سے شرعی اموال كو لينے كی اجازت طلب كی تو امام نے ان كو حجت الاسلام و المسلمين كہ كر پكارا جس سابقہ بہت کم ملتا ہے ۔
انہوں نے اس بات كی جانب اشارہ كرتے ہوئے كہ سيد حسن نصراللہ كے اندر مقابلے كی پہلی شمع سيد موسی صدر نے روشن كی خيال ظاہر كيا ہے كہ جب اسرائيل نے لبنان ہر حملہ كيا تو سيد حسن نصر اللہ نے اسرائيليوں كو مخاطب كرتے ہوئے كہا تم لوگوں كو معلوم نہیں ہے كہ آج تم نے كن لوگوں كے مقابل پر جنگ كا آغاز كيا ہے تم نے محمد ﴿ص﴾ ، علی﴿ع﴾ ، حسن﴿ع﴾ ، حسين﴿ع﴾ كے شجاع فرزندوں اور اہل بيت ﴿ع﴾ اور اصحاب رسول ﴿ص﴾ اور ایک ايسی قوم كےساتھ جنگ كر رہے ہو جس كا ايمان كرہ ارض پر بسنے والے تمام انسانوں سے محكم تر ہے ۔
983493